
لندن (اے ون نیوز) پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری کے خلاف انٹرپول کی جانب سے جاری ریڈ نوٹس منسوخ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد انٹرپول نے ان کے خلاف تمام تفتیش ختم کرنے کی باضابطہ تصدیق بھی کر دی ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستانی وزارتِ داخلہ کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے زلفی بخاری کی حوالگی کے لیے دی گئی درخواست کو انٹرپول نے مسترد کر دیا۔ انٹرپول نے ذلفی بخاری کے وکلا کو ارسال کیے گئے خط میں واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ریڈ نوٹس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ تقریباً دو برس قبل پاکستانی وزارتِ داخلہ نے مونس الٰہی اور زلفی بخاری کے خلاف ریڈ نوٹس کے اجرا کے لیے انٹرپول سے رجوع کیا تھا۔ زلفی بخاری پر بانی پی ٹی آئی کی جوڈیشنل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کے مبینہ واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جبکہ وہ القادر ٹرسٹ کیس میں بھی پاکستانی حکام کو مطلوب قرار دیے جا رہے تھے۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ انٹرپول نے مونس الٰہی کے خلاف بھی ریڈ نوٹس منسوخ کرنے کی تصدیق کی تھی۔ ذرائع کے مطابق انٹرپول نے پاکستانی شکایات کا جائزہ لینے کے بعد خاطر خواہ شواہد نہ ملنے پر مونس الٰہی کے خلاف تحقیقات بند کر دی تھیں۔ مونس الٰہی پر پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں مبینہ بدعنوانی اور ملک چھوڑنے کے بعد گجرات میں قتل کے ایک واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق زلفی بخاری کے خلاف ریڈ نوٹس کی کارروائی 2023 کے وسط میں شروع کی گئی تھی، جبکہ مونس الٰہی کے خلاف یہ عمل تقریباً ایک برس بعد شروع ہوا۔ محسن نقوی کی سربراہی میں وزارتِ داخلہ نے دونوں شخصیات کو “کسی بھی قیمت پر” وطن واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
انٹرپول کے حالیہ فیصلوں سے جہاں زلفی بخاری اور مونس الٰہی کو بڑا ریلیف ملا ہے، وہیں وزارتِ داخلہ کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے وکلا انٹرپول کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ ان کے موکلین پر عائد کیے گئے کرپشن اور دہشت گردی کے الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد سیاسی انتقام اور ظلم و ستم کے سوا کچھ نہیں۔




