
ابوظبی (اے ون نیوز) متحدہ عرب امارات میں نیا سول قانون نافذ ہوگیا جس کے بعد نوجوان سرپرست کی اجازت کے بغیر مالی اور قانونی فیصلے کر سکیں گے۔
متحدہ عرب امارات میں قانونی بلوغت کی عمر 18 سال قرار دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل یہ 20 سال کی عمر تھی۔
حکام کے مطابق 18 سال کے نوجوان سرپرست کی اجازت کے بغیر مالی اور قانونی فیصلے کرسکیں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ 18 سال کے افراد معاہدے کرنے، قرض لینے اور جائیداد خریدنے کے مجاز ہوں گے جبکہ 15 سال کے افراد عدالتی اجازت سے اپنے اثاثے خود سنبھال سکیں گے۔
اماراتی حکام کے مطابق نوجوانوں کو کاروبار رجسٹر کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔




