
نئی دہلی(اے ون نیوز)غزہ میں قیامِ امن کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ امن منصوبہ بندی کے تحت قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں بھارت کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق صدر ٹرمپ نے غزہ بحران کے حل کے لیے بھارت کو ’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بننے کی پیشکش کی ہے۔ بھارت کے اسرائیل اور فلسطین دونوں کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں اور حالیہ تنازع کے بعد بھارت مصر کے راستے غزہ کو انسانی امداد بھی فراہم کر رہا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے غزہ مسئلے کے پُرامن حل کی حمایت کرتے ہوئے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق اسرائیل اور فلسطین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ دہشت گردی کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو امریکی صدر کی جانب سے باضابطہ دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا حصہ رہے گا تاکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطین مسئلے کا پائیدار حل ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ کا قیام 15 جنوری کو صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت عمل میں آیا، جس کی صدارت خود ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ بورڈ غزہ میں حکمرانی کے نظام کی بحالی اور خطے میں استحکام پر توجہ دے گا، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس منصوبے کی منظوری دی ہے۔





