
ٹوکیو(اے ون نیوز) جاپان میں شدید سردی کی غیر معمولی لہر نے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، جہاں درجہ حرارت منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ شدید برفباری کے نتیجے میں اب تک کم از کم 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر جاپانی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوج تعینات کر دی ہے تاکہ برف میں پھنسے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے اور بنیادی سہولیات بحال کی جا سکیں۔
یہ شدید سرد لہر جنوری کے آخر میں شروع ہوئی تھی جس کے باعث جاپان کے شمالی علاقوں میں کئی فٹ برف جم چکی ہے۔ متعدد شہر مکمل طور پر برف کی سفید چادر میں ڈھک گئے ہیں جبکہ ٹریفک، ریل سروس اور فضائی پروازیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔
شمالی شہر آوموری میں پیر 2 فروری کو 183 سینٹی میٹر (72 انچ) برف ریکارڈ کی گئی جو حالیہ برسوں میں ایک ریکارڈ ہے۔ حکام کے مطابق مزید برفباری کا امکان بھی موجود ہے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ سردی کی لہر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی ایک واضح مثال ہے، جس سے مستقبل میں مزید شدید موسم کے واقعات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔




