
مانچسٹر (اے ون نیوز)مانچسٹر کی مسجد میں دورانِ تراویح ’کلہاڑی کے ساتھ داخل ہونے والا‘ شخص گرفتار، برطانوی وزیر اعظم کا اظہار تشویش.
تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے شہر مانچسٹر کی ایک مسجد میں نمازِ تراویح کے دوران چاقو اور کلہاڑی لے کر داخل ہونے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرے مشتبہ شخص کی تلاش جاری ہے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات آٹھ بج کر 40 منٹ پر پولیس کو وکٹوریہ پارک، رشولم میں اپر پارک روڈ پر واقع مانچسٹر سینٹرل مسجد میں دو آدمی مشکوک افراد کی موجود کی اطلاع دی گئی تھی۔
گریٹر مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کے ایک شخص کو جارحانہ ہتھیار اور کلاس بی منشیات رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ پولیس دوسرے شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
مانچسٹر سے رکن اسمبلی افضل خان نے میڈیا کو بتایا کہ یہ انتہائی دائیں بازو کے سیاستدانوں کا مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنانے کا نتیجہ ہے۔ ’یہ سیدھا سیدھا اسلامو فوبیا ہے۔‘
افضل خان کا کہنا ہے کہ وہ پولیس اور مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم اور وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
واقعے کے متعلق مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیکٹ پہنے ہوئے ایک سفید فام شخص ایک بڑا بیگ اٹھائے اس وقت مسجد میں داخل ہوا جب نمازی تراویح کی نماز ادا کر رہے تھے۔ مشتبہ شخص کے ہمراہ ایک سیاہ فام آدمی بھی تھا۔
مسجد کے رضاکاروں کو سفید آدمی کے بیگ کے اندر کلہاڑی دکھائی دی جس کے بعد وہ اسے ایک علیحدہ کمرے میں لے گئے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے بیگ سے چاقو اور ہتھوڑے سمیت دیگر ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔ اس وقت مسجد میں تقریباً 2000 نمازی موجود تھے۔
سپرنٹنڈنٹ سائمن نسیم کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی دھمکی دی گئی۔
اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل جان ویبسٹر کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ وہ عمارت پر کام کرنے کے لیے مسجد میں موجود تھا، لیکن مسجد کے عملے کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
’انھوں نے بجا طور پر اپنے شک کا اظہار کیا اور پولیس کو بلایا۔‘’تاہم، ہم اس مشکوک رویے کی وجہ سے انھیں لاحق اس تشویش کو سمجھتے ہیں۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرے شخص کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی اور باڈی کیم فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ وہ کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ نارتھ ویسٹ کے افسران کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاہم انھوں نے تاحال اس واقعے کو دہشتگردی قرار نہیں دیا ہے جس پر مسجد انتظامیہ کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے۔
مسجد کے ترجمان حماد خان کا کہنا ہے کہ وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پولیس اس واقعے کو دہشت گردی کیوں نہیں قرار دے رہی ہے۔
’دو افراد ایک بیگ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے جس میں کئی ہتھیار تھے – ایک کلہاڑی، ایک ہتھوڑا اور متعدد چاقو۔
’آپ کو پوچھنا ہوگا کہ ان کا مقصد کیا تھا؟ میں سمجھ نہیں سکتا کہ اس کو دہشت گردی کے واقعے کے طور پر کیوں لیا جا رہا ہے۔‘
برطانوی وزیرِ اعظم کا مانچسٹر واقعے پراظہارِ تشویش
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں برطانوی وزیر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کے متعلق سن کر انھیں ’تشویش‘ ہوئی ہے۔
’میں جانتا ہوں کہ ایسے واقعے کا رمضان کے دوران ہونا، جو امن اور غور و فکر کا وقت ہے، مسلم برآبادی کے لیے پریشانی کا باعث ہو گا۔‘




