
اسلام آباد(اے ون نیوز)وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان سرحد پر بلااشتعال کارروائی کی گئی ہے،پاکستان کا افغانستان کو منہ توڑ جواب، متعدد چوکیاں تباہ، 44 طالبان اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں.
ایکس پر جاری بیان میں وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے غلط اندازہ لگاتے ہوئے خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے متعدد مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں افغان طالبان فورسز کو سخت جواب دیتے ہوئے بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغانستان کی جانب بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ متعدد چوکیوں اور عسکری سازوسامان کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائےگا۔
خیال رہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی جانب سے پاکستانی سرحد کے اندر مسلسل دہشت گردانہ کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں، جس کے جواب میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے پاکستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی۔ تاہم افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور کمین گاہوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری رہیں۔
بائیس فروری کو پاکستان نے افغانستان میں فتنۃ الخوارج اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں سو سے زیادہ دہشت گرد اور خارجی ہلاک ہو گئے تھے۔
افغانستان میں پاکستان مخالف دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق عالمی میڈیا، آزاد صحافی اور کئی ممالک بھی کر چکے ہیں۔ کچھ روز پہلے روس نے بھی تصدیق کی کہ افغانستان میں تقریباً 23 ہزار دہشت گرد موجود ہیں۔
روس وہ واحد ملک ہے جس نے طالبان رجیم کو تسلیم کر رکھا ہے۔ اس نے بھی افغانستان میں تئیس ہزار غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔




