
واشنگٹن(اے ون نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کو خارج از امکان قرار دینے سے گریز کیا ہے۔
امریکی میڈیا کو انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دیگر صدور کی طرح زمینی فوج نہ بھیجنےکی بات نہیں کروں گا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امکان ہےکہ زمینی فوج کی ضرورت نہیں ہوگی، ایسا بھی ممکن ہے کہ زمینی فوج ضرورت بن جائے۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارے اہداف واضح ہیں، ہمیں ایران کی میزائل صلاحیت تباہ کرنا ہے، ایران کی نیوی تباہ کرنا اور ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے اور ایران کو اپنی سرحدوں کے باہر دہشت گردوں کو ہتھیار، فنڈ اور رہنمائی فراہم کرنے سے روکنا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کا میزائل پروگرام جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تھا، امریکا وہ ملک تھا جو اسے روکنا چاہتا تھا اورہر کوئی ہمارے پیچھے کھڑا تھا، جوہری ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ایرانی حکومت مشرق وسطیٰ اور امریکا کے لیے بھی ناقابل برداشت خطرہ ہوگی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں کر رہا تھا لیکن معاہدے بار بار ناکام ہوئے اور اسی وجہ سے فوجی کارروائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جنگ شروع کرنےکا فیصلہ اس لیےکیا کہ یہ حملہ کرنےکا ہمارا آخری اور بہترین موقع تھا، حملہ اس لیےکیا کہ بدعنوان حکومت کے ناقابل برداشت خطرات کو ختم کیا جاسکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 10 بحری جہاز پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں اور میزائل بنانے کی صلاحیت بھی کمزور ہو رہی ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوجی آپریشن شیڈول سے آگے ہے اور ابتدائی طور پر منصوبہ 4 سے 5 ہفتےکا تھا لیکن امریکا کے پاس کارروائی طویل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ٹرمپ نے سابق امریکی صدر براک اوباما دور میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے سے 2018 میں دستبردار ہونے کے اپنے فیصلے پر بھی بات کی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ خوفناک اور انتہائی خطرناک دستاویز تھی ، ایران تین سال پہلے ہی جوہری ہتھیار حاصل کرچکا ہوتا، فخر ہےکہ ہم نے ایرانی کی نیوکلیئر ڈیل ختم کی۔




