
ڈھاکہ (اے ون نیوز) بنگلا دیش میں عام انتخابات کا میلہ سج گیا، بی این پی جیتے گی یا جماعت اسلامی کا اتحاد؟ 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ووٹرز ملک کو نئی قیادت دیں گے۔
خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان بی این پی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں، جماعت اسلامی کی طرف سے شفیق الرحمان مدمقابل ہیں، 299 نشستوں پر 50 سیاسی جماعتوں اور 249 آزاد ارکان سمیت 1981 امیدوار میدان میں ہیں۔
بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق300 پارلیمانی حلقوں میں سے299 میں پولنگ آج صبح 7:30 بجے شروع اور شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی۔
1981 امیدواروں میں سے 250 سے زائد آزاد امیدوار ہیں، پولنگ پر سکیورٹی کے سخت انتظامات اور ملک بھر میں فوج تعینات کر دی گئی، 3روز کیلئے موٹر سائیکل چلانے پر پابندی لگا دی۔
حکومت سازی کیلئے151نشستیں حاصل کرنا لازم ہے۔ عوامی سروے میں بی این پی اور جماعت اسلامی کی زیر قیادت11جماعتی اتحاد میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق 5.6 کروڑ نوجوان ووٹروں کا کردار فیصلہ کن ہو گا جو کل ووٹرز کا 44 فیصد ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم 767142 ووٹرز پہلی بار پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالیں گے۔
ووٹروں کو سفید اور گلابی رنگ کے2 بیلٹ پیپرز ملیں گے، سفید رکن پارلیمنٹ، گلابی’’جولائی نیشنل چارٹر‘‘ کے تحت مجوزہ دستوری اصلاحات پر ریفرنڈم کیلئے ہے، مجوزہ اصلاحات میں وزیر اعظم کی مدت کی حد، عدلیہ کو بااختیار بنانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
مبصرین کے مطابق عشروں سے حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کے گرد گھومنے والا سیاسی نظام اس بار مختلف نظر آ رہا ، طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی معاشی بحالی و شفافیت کے نعرے کیساتھ مضبوط پوزیشن میں ہے۔
ادھر جماعت اسلامی کی زیر قیادت11جماعتی اتحاد جس میں نوجوانوں کی نیشنل سٹیزن پارٹی شامل ہے، ایک بڑی انتخابی قوت بن کر سامنے آیا ہے۔
اسلامی تحریک بنگلہ دیش 253 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی جس سے مذہبی ووٹ تقسیم ہونے کا امکان ہے۔ ڈھاکہ کی58 اور چٹاگانگ کی68 نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔
انتخابات کے پرامن انعقاد کیلئے10 لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات،24 ہزار پولنگ سٹیشنز حساس قرار دے کر سی سی ٹی وی نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے۔
ادھر ووٹروں کو دھمکانے پر رہنما بی این پی منظور الاحسن منشی کو الیکشن انکوائری کمیٹی نے طلب کر لیا۔
ایک وائرل ویڈیو میں منظور الاحسن منشی نے ووٹروں کو دھمکی دی کہ بی این پی کو ووٹ نہ دینے والوں کے گھر جلا دیں گے۔ بی این پی نے پالیسی کے خلاف بیانات دینے پر منظور الاحسن منشی کو پارٹی سے نکال دیا۔




