
ڈھاکہ(اے ون نیوز) بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو انتخابات میں بڑی اکثریت مل گئی ہے.
اب تک غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد کو300 نشستوں میں سے 212 نشستوں پر کامیابی مل چکی ہے جبکہ جماعت اسلامی اتحاد کو 70 نشستوں پر فتح نصیب ہوئی ہے۔
نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ سیٹیں جیت پائی ہے، ووٹوں کی گنتی اب تک جاری ہے، ٹرن آؤٹ 60 فیصد رہا۔
بنگلہ دیش کے لوگوں کی صبح کا آغاز اس خبر سے ہوا ہے کہ بی این پی برتری حاصل کر رہی ہے اور اگلی حکومت بنانے کے قریب ہے، بنگلہ دیشی اخبارات نے پہلے ہی بی این پی کی فتح کے امکانات ظاہر کر دیے ہیں.
اب بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ بی این پی کے رہنما طارق رحمان ملک کے اگلے وزیراعظم بن سکتے ہیں
چیئرمین بی این پی طارق رحمان دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے، امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمان بھی اپنی نشست جیت گئے، اتحادی طالبعلم رہنما ناہید اسلام نے ریکارڈ ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی۔
انتخابات میں 7 خواتین بھی منتخب ہو ہو گئیں، افروزاں خان،عشرت سلطانہ، تاشینہ رشدیر، شمع عبیدی، نایاب وسف کمال اور فرزانہ شرمینہ بی این پی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئیں جبکہ بیرسٹر رحمینہ فرحان نے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔
بھارت میں پناہ گیر شیخ حسینہ نے انتخابات کو ڈھونگ قرار دے دیا۔




