
اسلام آباد(اے ون نیوز)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایوانِ صدر سے بڑی ڈیویلپمنٹ اور بریک تھرو کی منظوری لے کر واپس پہنچے۔
اے ون ٹی وی کے مطابق اب نہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کرے گی اور نہ ہی خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کا نفاذ کرنا پڑے گا۔
وفاقی حکومت، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے نتیجہ میں طے ہونے والے معاہدے کے نکات سامنے آ گئے ہیں۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے کئی اہم مطالبے مانے ہیں اور تحریک انصاف نے حکومت کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔
تحریک انصاف کی قیادت اب خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں خصوصی انتظامی انتظامات پر رضامند ہے۔
اس معاہدہ میں تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں جاری فوجی آپریشنز کی مکمل حمایت اور سپورٹ کا اعلان کیا ہے۔
تحریک انصاف نے آئندہ کسی بھی طرح کے "لانگ مارچ”اور "پرتشدد جلوس” کا کوئی منصوبہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
محسن نقوی کی ایوان صدر سے پارلیمنٹ واپسی پر سینئیر صحافی کا کومنٹ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں گورننس پر مکمل توجہ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
تحریک انصاف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ "قیدی سے ملاقاتوں” اور دیگر معاملات کو قانون کے مطابق طے کیا جائے گا.




