اہم خبریںپاکستانتازہ ترینسندھ

سہیل آفریدی انتہاپسندی کی سیاست چھوڑ دیں ورنہ خان صاحب جیل کا زرداری کا ریکارڈ بھی توڑ دینگے،بلاول

کراچی(اے ون نیوز) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے گورنر راج لگوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو گورنر راج لگے گا۔

بلدیہ ٹاؤن میں اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں ںے کہا کہ کچھ قبل دن وفاقی حکومت کے پی میں گورنر راج لگانے کے لیے تیار تھی ہم اس کے فوری نفاذ کے حق میں نہیں، گورنر راج آخری آپشن ہونا چاہیے، ہماری تجویز تھی کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا آپشن قانونی ہے مگر یہ ایک ایٹم بم ہے یہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایک وزیراعلیٰ ڈائیلاگ کا راستہ چھوڑ کر منفی سیاست کے راستے پر چل رہا ہے، انتہا پسندی کی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان خود پی ٹی آئی کو ہورہا ہے، پی ٹی آئی اپنے فیصلوں سے اپنے سپورٹرز کو مایوس کررہی ہے، اس ملک کی تاریخ رہی ہے جو جیل میں گیا ہے وہ بعد میں رہا بھی ہوا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ زرداری صاحب 14 سال جیلوں میں رہے، اگر وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی عمران خان سے واقعی مخلص اور سچے ہیں تو انتہاپسندی کی سیاست چھوڑ دیں، اگر پی ٹی آئی اسی طرح انتہاپسندی کی سیاست کرتی رہی تو خان صاحب زرداری صاحب کا بھی ریکارڈ توڑ دیں گے، کے پی میں آج جو حالات ہیں اس کے ذمہ دار سہیل آفریدی ہیں وزیراعلیٰ کی وجہ سے صوبے کے حالات ایسے ہیں کہ وہاں ایمرجنسی لگے جائے۔

بلاول نے کہا کہ انتہاپسندی کی سیاست کی وجہ سے پی ٹی آئی کا آپس میں بھی اور عدالت میں بھی جھگڑا ہے، انتہا پسندی کی سیاست جاری رہی تو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بھی نہیں رہے گی، اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو گورنر راج لگے گا کیوں کہ وزیراعلیٰ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی،ایسا لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ خود چاہتے ہیں کہ کے پی میں گورنر راج لگے،حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں فضل الرحمان کی شمولیت کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی والے وی لاگ والے کیا کہہ رہے تھے کل نہیں آج گورنر راج لگ رہا ہے؟ اگر پی ٹی آئی کے طریقے سے فیصلہ کرتا تو جلد بازی پی ٹی آئی کرتی، مجھے معلوم ہے سیاسی جماعتوں کے لیے اسپیس کم ہوگا تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ سیاسیتجزیہ

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان والے صوبہ بنانے کی بات کرتے ہیں یہ ان کا حق ہے ہم ان کے ساتھ ہیں، جہاں عوام کی رائے ہے اور وہ چاہتے ہیں صوبہ بننا چاہیے تو وہاں صوبہ ضروری ہے، گلگت بلتستان میں صوبہ بنانے سے متعلق اتفاق رائے موجود ہے.

لاڑکانہ سے لے کر کراچی تک بلدیاتی نظام میرا ہے جہاں عوام چاہتے ہیں وہاں کل نہیں آج صوبے بننے چاہئیں، مصطفی کمال صاحب اور محسن نقوی صاحب اور بزنس کمیونٹی کو بولیں روڈ شو کریں، آئیں لیاری، سانگھڑ جائیں ، لاڑکانہ جائیں ، سجاول جائیں اور وہاں کی عوام پوچھیں سے کیا صوبہ بننا چاہیے؟

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف چاہتے ہیں عوام کو ریلیف ملے، غربت میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ ورلڈ بینک کہہ رہا ہے پورے خطے کا بوجھ یہ ملک اٹھا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button