
اسلام آباد(اے ون نیوز)آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بیان دیا ہے کہ 2 لاپتہ بھائیوں کو ہرجگہ تلاش کرلیا، کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ سیکرٹری دفاع سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے جسٹس انعام امین منہاس نے کہا یہ پولیس نے دیکھنا ہے کہ دونوں اسلام آباد سے کیسے نکلے؟ اب کہاں ہیں؟
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2 لاپتہ بھائیوں کی بازیابی درخواست پر سیکرٹری دفاع سے رپورٹ طلب کرلی۔ آئی جی پولیس نے موقف اپنایا کہ دونوں لاپتہ بھائیوں کا ہرجگہ معلوم کیا لیکن اب تک کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے احمد نورانی کے دوبھائیوں کی بازیابی کی درخواست پرسماعت کی ، لاپتہ بھائیوں کی درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری اور آئی جی اسلام آباد علی ناصررضوی پیش ہوئے۔
جسٹس انعام امین نے کہا کہ عدالت نے ایس ایچ اوکو انکوائری کرکے گاہ کرنے کی ہدایت کی تھی ، آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ ایس ایس آپریشنز کی سربراہی میں اسپیشل تحقیقاتی ٹیم بنائی جیوفینسنگ کرائی ہے، دونوں بھائی اسلام آباد کے کسی تھانے میں موجود نہیں۔
علی ناصر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ ملک بھر کے آئی جی جیل خانہ جات سے بھی رابطہ کیا ہے، کہیں معلوم نہیں ہوا۔ آئی جی اسلام آباد نے دونوں بھائیوں کی بازیابی کیلئے عدالت سے دو ہفتوں کی مہلت کی استدعا کی۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ وزارت داخلہ کے ماتحت خفیہ اداروں کے حوالے سے الزام لگایا ہے، جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ ان کو نوٹس کیا ہوا ان کا جواب آ جائے تو دیکھ لیتے ہیں۔
جسٹس انعام امین منہاس نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ کیسے اسلام آباد سے نکلے؟ کہاں ہیں؟ یہ آپ نے دیکھنا ہے، وزارت دفاع کا جواب آنا اب ضروری ہوچکا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری دفاع سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔