
ڈھاکہ ( اے ون نیوز) بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیاء کی حالت مزید بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔جبکہ انکے بیٹے اور بی این پی کے قائم مقام سربراہ طارق رحمٰن کی بنگلہ دیش واپسی پرسیاسی و قانونی رکاوٹوں کے سوال اٹھنے لگے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی این پی کے وائس چیئرمین ایڈووکیٹ احمد اعظم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ بیگم ضیاء کی حالت دوبارہ نازک ہوگئی ہے، گزشتہ رات سے وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔ خالدہ ضیاء کو پہلے سی سی یو سے آئی سی یو منتقل کیا گیا اور پھر انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔
2008 سے لندن میں مقیم، خالدہ ضیاء کے بیٹے خودساختہ جلاوطن اور بی این پی کے قائم مقام سربراہ طارق رحمٰن کی وطن واپسی تاحال غیریقینی کی صورتِ حال کا شکار ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’وطن واپس آنا پوری طرح میرے اختیار میں نہیں ہے‘‘، جس کے بعد ان کی ممکنہ واپسی پر سیاسی و قانونی رکاوٹوں کے سوال اٹھنے لگے ہیں۔
ادھر نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت نے وضاحت دی ہے کہ طارق رحمٰن کی واپسی پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔




