اہم خبریںبلوچستانپاکستانتازہ ترین

بلوچستان میں آپریشن مکمل، 3خودکش حملہ آوروں سمیت 92 دہشتگرد ہلاک، 15 جوان ،18 عام شہری شہید

کوئٹہ(اے ون نیوز)بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے 12 مقامات پر حملے ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں میں 92 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا جبکہ مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے 15 جوان شہید اور 18 سویلین جاں بحق ہوئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 31 جنوری 2026 کو بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے کی غرض سے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے علاقوں میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں کیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد بلوچستان کے مقامی عوام کی زندگیوں اور صوبے کی ترقی کو متاثر کرنا تھا، مسلح افراد نے ضلع گوادر اور خاران میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، اور بلوچ خواتین، بچوں، بزرگوں اور مزدوروں سمیت اٹھارہ معصوم شہریوں کو شہید کیا۔

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا اور کلیئرنس آپریشن کے دوران دو خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، فورسز نے کارروائیوں کے دوران مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا۔

بدقسمتی سے، کلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر سپوتوں نے دلیری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور عظیم قربانی دی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور ان مکروہ اور بزدلانہ کارروائیوں کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو، جو معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر تصدیق کی ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر موجود دہشت گرد سرغنوں نے منصوبہ بندی کے تحت کیے، جو کارروائی کے دوران براہ راست دہشت گردوں سے رابطے میں تھے۔

اس سے قبل 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے اکتالیس دہشت گرد ہلاک کیے گئے، یوں گزشتہ دو دنوں میں کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں بلوچستان میں جاری آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو چکی ہے۔

علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔

وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ وژن “عزمِ استحکام” کے تحت پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بلاامتیاز اور مسلسل انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

نماز جنازہ ادا
قبل ازیں بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث دہشتگردوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے شہید ہونے والے 9 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

شہداء کی نماز جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شرکت کی، اس کے علاوہ کور کمانڈر بلوچستان ، صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اور آئی جی پولیس بلوچستان سمیت اعلیٰ حکام بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ ملک کی سلامتی کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوتوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مستعدی اور کامیابی سے ان حملوں کو ناکام بنایا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button