
اسلام آباد(اےو ن نیوز)طالبان رجیم کے خلاف پاکستان کا آپریشن "غضب للحق” شروع،پاکستان نے افغانستان پر فضائی حملہ کر دیا،دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا.
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان نے پہلا فضائی حملہ قندھار پر کیا ہے ،قندھار اس وقت آگ کے شعلوں اور دھویں کے بادلوں کی لپیٹ میں ہے.
پاک فضائیہ نے بلااشتعال افغان جارحیت کے جواب میں افغانستان پر مؤثر فضائی حملے شروع کر دیے، ننگرہار کے اندر بڑا ایمونیشن ڈیپو تباہ کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں ننگرہار میں ٹھکانوں کی درست نشاندہی کر کے بڑا ایمونیشن ڈیپو تباہ کر دیا گیا ہے،مزید حملے جاری ہیں۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کیا اور وہاں قومی پرچم لہرا دیا۔
پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیے جس میں خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے فائر کئے گئے گولے باجوڑ کے علاقے لغڑئی اور گرد و نواح میں گرے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں مارٹر گولے گرنے سے 5 افراد زخمی ہوگئے جس میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمی افراد کو خار اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی جانب سے حملے کے خلاف باجوڑ کے عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔
فغان طالبان کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے،پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان کی جانب سے سول آبادی پر حملے کیے جارہے ہیں اور طالبان نے باجوڑ میں مسجد کو بھی نشانہ بنا ڈالا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے بلا اشتعال جارحیت کرتے ہوئے باجوڑ میں مسجد کو بھی نشانہ بنایا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی شیلنگ سے مسجد کی چھت اور دیگر حصے بری طرح متاثر ہوئے۔




