
تہران(اے ون نیوز)اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران میں فضائی حملہ کردیا ہے جس کے بعد ہنگامی سائرن بجا دیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے۔ حملے میں امریکی فضائیہ نے حصہ لیا۔ حملے کے بعد تہران میں شدید دھماکوں کی آواز سنی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی بیان میں کہا گیا کہ امریی افواج نے ایران کیخلاف وسیع آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔
اسرائیلی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس حملوں کی منصوبہ بندی مہینوں پہلے سے جاری تھی اور تاریخ کا بھی فیصلہ ہفتوں پہلے کیا گیا۔ یہ حملے امریکا کے ساتھ مِل کر کیے گئے ہیں۔ یہ حملے پیشگی حملے ہیں جس کا مقصد ایران کی طرف سے فوری خطرے کو کم کیا جاسکے۔ چار روز تک شدید اور مربوط حملے کیے جائیں گے جس کے بعد تہران کی صورتحال تبدیل ہوجائیگی۔
روسی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ فضائی حملہ اسرائیل کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں کئی فوجی کمانڈر مارے گئے ہیں۔ حملے میں انٹیلی جنس ہیدکوارٹر کو بھی نشانہ بنایاگیا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا میں کئی میزائل گرائے گئے۔ دیگر رپورٹس کے مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ابھی تہران میں نہیں ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ جبکہ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کردی ہے اور عراق نے بھی ایئر ٹریفک معطل کردی ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملوں کی پہلی لہر ہے جبکہ دوسری لہر متوقع ہے۔ حملوں میں کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اہداف میں وزیر اطلاعات اور ایوان صدر بھی شامل ہیں۔ اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔ مزید برآں حملوں میں ایرانی صدر کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ایران میں حملے کے بعد اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت اسکول بند اور شہریوں کو محفوظ مقامات میں رہنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایک طاقتور ترین حملے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اسرائیل نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کا انجام اُس کے ہاتھ میں نہیں۔




