اہم خبریںتازہ تریندنیا

ایران کے ساتھ جنگ،ٹرمپ کا بڑا یو ٹرن

واشنگٹن(اے ون نیوز)ایران کے ساتھ ایک ہفتے کی جنگ کے بعد امریکی صدر نے یو ٹرن لے لیا.

اے ون ٹی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے خلاف جنگ بڑی حد تک مکمل ہو گئی ہے۔

امریکی ٹی وی سی بی ایس سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا نے ابتدا میں اندازہ لگایا تھا کہ یہ جنگ 4 یا 5 ہفتے جاری رہے گی مگر امریکا اپنے وقت سے کافی آگے چل رہا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ خاتمے کے قریب ہے

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس نہ بحریہ مؤثر رہی ہے، نہ مواصلاتی نظام اور نہ ہی فضائیہ فعال ہے۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل تباہ ہوچکے ہیں، ان کے ڈرونز کو تباہ کیا جا رہا ہے، ڈرون بنانے کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق اگر فوجی طاقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ایران کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔

دوسری جانب امریکی صدر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں ایران کے خلاف جاری جنگ پر بات چیت کی گئی۔ کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔روسی صدر نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا مشورہ دے دیا.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کو بڑی غلطی قرار دیدیا۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے کو نیا رہنما منتخب کر کے غلط فیصلہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ایران نے یہ بہت بڑی غلطی کی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس غلط فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ دیکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک کمزور شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کی قیادت کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

امریکی صدر نے ایران کے تیل پر ممکنہ قبضے سے متعلق سوال پر کہا کہ اس بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرسکتے۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اور اس کے جوہری پروگرام کے تناظر میں امریکا تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

ایران میں قیادت کی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے طویل عرصے تک سپریم لیڈر رہنے والے آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button