
ریاض/ واشنگٹن (اے ون نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اسی دوران ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس تنازعے کو خطے کی نئی تشکیل کے لیے ایک فیصلہ کن موقع قرار دیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق حالیہ گفتگو میں سعودی ولی عہد نے ایران پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کی حمایت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی جاری عسکری مہم مشرقِ وسطیٰ کو ازسرنو ترتیب دینے کا ایک “تاریخی موقع” فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خلیجی ممالک کے لیے ایک طویل المدتی خطرہ ہے جس کا حل موجودہ حکومت کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب نے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ کے پھیلاؤ کا حامی نہیں۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “سعودی عرب ہمیشہ سے اس تنازعے کے پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے، حتیٰ کہ اس کے آغاز سے پہلے بھی۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ مملکت کی اولین ترجیح اپنے شہریوں اور سویلین انفراسٹرکچر کو روزانہ ہونے والے حملوں سے بچانا ہے اور ایران کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی پالیسی تمام فریقین کے لیے نقصان دہ ہے۔
جنگ کے باعث سعودی عرب کو پہلے ہی سنگین معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں نے، جو امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں، تیل کی عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور اہم تنصیبات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز ، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، شدید متاثر ہوئی ہے جس سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سمیت خلیجی ممالک کی برآمدات پر اثر پڑا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک جانب کشیدگی میں کمی کے اشارے دیے ہیں تو دوسری طرف مزید سخت اقدامات کا عندیہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ دشمنیوں کے مکمل خاتمے کے حوالے سے “مثبت بات چیت” جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور حتیٰ کہ زمینی کارروائیوں کے امکان پر بھی زور دیا ہے تاکہ تہران کی حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔ تاہم تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ سعودی عرب ایک پیچیدہ صورتحال میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ ایران کی کمزوری میں اسٹریٹیجک فائدہ دیکھتا ہے، تو دوسری طرف خطے میں عدم استحکام خود اس کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ 2019 میں سعودی آئل تنصیبات پر ہونے والے حملے اس بات کی واضح مثال ہیں کہ مملکت ایرانی ردعمل کے سامنے کس قدر حساس ہے۔
مزید برآں، سعودی عرب کا وسیع معاشی منصوبہ Vision 2030 بھی اس جنگ سے متاثر ہو سکتا ہے۔ طویل تنازعہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتا ہے، توانائی کی برآمدات میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے اور ایسے وقت میں مالی دباؤ بڑھا سکتا ہے جب ملک بڑے پیمانے پر اقتصادی اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے۔




