اہم خبریںتازہ تریندنیا

جنگ میں ایران کا 145 ارب ڈالرز تک کا نقصان ہوا، ’’العربیہ‘‘ کا دعویٰ

تہران (اے ون نیوز) ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری رہنے والی 40 روزہ جنگ کے بعد ایران کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ملک کے اہم انفراسٹرکچر کو وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔

’’ العربیہ‘‘ کے مطابق اس مختصر مگر شدید جنگ کے نتیجے میں ایران کی معیشت کو تقریباً 140 سے 145 ارب ڈالرز تک کا نقصان پہنچا، جبکہ ہزاروں شہری بے روزگار ہو گئے اور ملک بھر میں فیکٹریاں، بجلی گھر، ہوائی اڈے اور پل تباہ ہو گئے۔

ایرانی ہلال احمر کے سربراہ پیرحسین کولیوند کے مطابق جنگ کے دوران 1 لاکھ 25 ہزار سے زائد غیر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جن میں تقریباً 1 لاکھ رہائشی یونٹس شامل ہیں۔ ان میں سے کئی مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ دیگر کو جزوی نقصان پہنچا۔ اسی طرح تقریباً 23500تجارتی مراکز بھی متاثر ہوئے، جس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔

کولیوند نے مزید بتایا کہ 339 طبی مراکز بھی حملوں کی زد میں آئے، جن میں ہسپتال، فارمیسیاں، لیبارٹریاں، ہیلتھ سینٹرز اور ایمرجنسی یونٹس شامل ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ علاج گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور خاتم ہسپتال کے قریب واقع ہلال احمر کے بحالی مرکز کو میزائل حملے میں شدید نقصان پہنچا، جبکہ اردگرد کی کئی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔

تعلیمی شعبہ بھی اس تباہی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ ایرانی حکام کے مطابق 32 جامعات کو نقصان پہنچا جبکہ 857 سکولوں اور تعلیمی مراکز کو جزوی یا مکمل طور پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں ہلال احمر کی 20 تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، جبکہ امدادی کارروائیوں کے دوران 49 ریسکیو گاڑیاں اور 43 ایمبولینسیں بھی حملوں کی زد میں آئیں، جن میں سے بعض کو براہ راست میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

انفراسٹرکچر کے حوالے سے بتایا گیا کہ کم از کم 15 اہم تنصیبات اور پانچ ایندھن ذخیرہ کرنے کے مراکز کو نقصان پہنچا، جبکہ ہوائی اڈوں اور سویلین طیاروں کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کیساتھ ساتھ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ امریکی سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق ایران کو ایک’’نسلیاتی سطح کی فوجی شکست ‘‘کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اس کے میزائل، بحری اور فضائی نظام کے ساتھ دفاعی صنعتی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے چار بڑے بیلسٹک میزائل پروڈکشن مراکز، جن میں خوجیر، پارچین، حکیمیہ اور شہرود شامل ہیں، کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ کم از کم 29 میزائل لانچ سائٹس بھی تباہ ہوئیں۔ سیٹلائٹ تصاویر اور دفاعی ماہرین کے تجزیے کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں زمین کے اوپر موجود لانچنگ سہولیات مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، زیر زمین میزائل ذخائر تک رسائی عارضی طور پر محدود ہو گئی اور نئے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تباہی کے باعث ایران کی قلیل اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنانے کی صلاحیت فی الحال معطل ہو چکی ہے اور اسے بحال کرنے میں کافی وقت درکار ہوگا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اچانک جنگ بندی کا اعلان کر دیا، جو اس وقت سامنے آیا جب اس سے قبل انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو’’ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہ‘‘۔ اس اعلان کے ساتھ ہی 40 روز تک جاری رہنے والی شدید جنگ کا اختتام ہوا، تاہم اس کے اثرات طویل عرصے تک خطے اور خاص طور پر ایران کی معیشت اور سلامتی پر مرتب ہوتے رہیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button