
اوٹاوا (اے ون نیوز) کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے مونٹریال میں لبرل پارٹی آف کینیڈا کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا اب اپنی دفاعی اخراجات کا بڑا حصہ امریکہ کو منتقل نہیں کرے گا، جو ملکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔
مارک کارنی کی یہ تقریر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور شرکاء کی جانب سے اسے بھرپور پذیرائی ملی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اقتصادی خودمختاری اور قومی اتحاد کو کینیڈا کی نئی دفاعی اور صنعتی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ دور ختم ہو چکا ہے جب کینیڈا اپنے ہر دفاعی ڈالر میں سے “70 سینٹ” امریکہ کو بھیجتا تھا۔ ان کی اس بات پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور شرکا کی طرف سے انہیں Standing Ovation دی گئی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کینیڈا کی آئندہ ترقی کا انحصار ملکی وسائل اور داخلی صلاحیتوں پر ہوگا۔ اس حوالے سے انہوں نے کینیڈین اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور مقامی افرادی قوت کو معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے کلیدی حیثیت دی۔
وزیراعظم نے “بائے کینیڈین” پالیسی کا اعلان بھی کیا، جس کے تحت دفاعی معاہدوں میں مقامی کمپنیوں کا حصہ بڑھا کر 70 فیصد تک لایا جائے گا۔ یہ اقدام دفاعی پیداوار کو مقامی سطح پر منتقل کرنے کی ایک بڑی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
کارنی نے آئندہ دس برسوں میں امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ کینیڈا کی برآمدات کو دوگنا کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اوٹاوا اپنی تجارتی شراکت داریوں کو متنوع بنانا چاہتا ہے اور واشنگٹن پر معاشی انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں کینیڈا اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی ہے، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں جب امریکی ٹیرف نے کینیڈا کی اہم صنعتوں کو متاثر کیا۔ تاریخی طور پر کینیڈا کا دفاعی شعبہ امریکہ سے قریبی طور پر جڑا رہا ہے، جس کے باعث طویل عرصے سے خودمختاری اور معاشی آزادی کے حوالے سے بحث جاری رہی۔
مارک کارنی کی یہ نئی حکمت عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کینیڈا اب اپنی دفاعی پالیسی میں زیادہ خودمختاری حاصل کرنے اور معیشت کو اندرونی بنیادوں پر مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر نئے شراکت دار تلاش کرنے کی جانب سنجیدگی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔




