
ممبئی(اے ون نیوز)بالی ووڈ کی لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں چل بسیں، وہ 250 کروڑ روپے کے مالی اثاثے 100 کروڑ کی قیمتی جائیدادیں اور ایک ریسٹورنٹ چین بھی ورثے میں چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آشا بھوسلے ناصرف اپنی لازوال آواز بلکہ ایک بڑی مالی اور کاروباری میراث بھی اپنے پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔
ان کی مجموعی دولت کا تخمینہ تقریباً 250 کروڑ بھارتی روپے لگایا گیا ہے، جو کئی دہائیوں پر محیط کامیاب کیریئر کا نتیجہ ہے۔ ان کے پاس ممبئی اور پونے سمیت مختلف شہروں میں قیمتی جائیدادیں موجود تھیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 100 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے، یہ جائیدادیں ان کے مالی استحکام کا اہم حصہ تھیں۔
آشا بھوسلے نے موسیقی کے علاوہ کاروبار کے میدان میں بھی کامیابی حاصل کی، انہوں نے ایک بین الاقوامی ریسٹورنٹ چین قائم کی، جو 2002 میں دبئی سے شروع ہوئی اور بعد ازاں متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، برطانیہ تک پھیل گئی، جہاں برمنگھم اور مانچسٹر جیسے شہروں میں اس کی شاخیں قائم ہیں۔
گلوکارہ آشا بھوسلے نے ہزاروں گانے گائے اور مختلف زبانوں میں اپنی خدمات انجام دیں، جس سے انہیں مستقل آمدن حاصل ہوتی رہی، ابتدائی دور میں رائلٹی نہ ہونے کے باوجود ان کے وسیع کام نے انہیں مالی طور پر مضبوط بنایا۔
وہ اپنی زندگی کے آخری برسوں تک دنیا بھر میں لائیو پرفارمنس کرتی رہیں، جس سے ان کی مقبولیت اور آمدن دونوں برقرار رہیں۔
آشا بھوسلے ایک ایسی شخصیت تھیں جنہوں نے نہ صرف موسیقی میں تاریخ رقم کی بلکہ کاروبار اور مالی کامیابی کی ایک مثال بھی قائم کی، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی، انہیں بھارتی موسیقی کی تاریخ کی سب سے مقبول اور بااثر آوازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
گلوکارہ نے اپنے طویل کیریئر کے دوران ہزاروں گانے ریکارڈ کیے اور ہندی سمیت کئی زبانوں میں اپنی آواز کا جادو جگایا، انہوں نے کلاسیکل، غزل، پاپ اور کیبری سمیت مختلف اصناف میں گایا اور فلمی صنعت کو بے شمار یادگار نغمے دیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آشا بھوسلے کو ایک روز قبل شدید تھکن اور سینے کے انفیکشن کے باعث اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
ان کی آخری رسومات پیر کے روز ممبئی کے شیواجی پارک میں ادا کی جائیں گی، جبکہ اہل خانہ کے مطابق عوام کو ان کی رہائش گاہ پر آخری دیدار کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔




