
تہران(اے ون نیوز)ایران کے امریکی اڈوں پر تابڑ توڑ ھملے جاری ہیں،جس سے امریکہ کو بھاری نقصان ہو رہا ہے.
نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے بعد ایران نے اسرائیل پر شدید بمباری کرتے ہوئے تل ابیب کے مرکز اور امریکی فوج کے اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں کم از کم 200 صیہونی زخمی ہو گئے ہیں، عراق میں امریکی جنگی طیارہ گرنے پر امریکا کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ پر افراتفری مچ گئی، افراتفری کے دوران ایئرپورٹ پر موجود افراد نے کاؤنٹر پر کھڑے عملے سے ہاتھا پائی کی اور چیزیں پھینکی، جواب میں عملے نے بھی چیزیں پھینکنا شروع کر دیں۔
اسرائیل کے زیر قبضہ الجلیل شہر میں راکٹ گرنے سے 80 افراد زخمی ہوگئے، کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق حیفہ شہرکے قریب الجلیل میں راکٹ حملوں سے 300 سے زائد گھر تباہ ہوئے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملہ کیا تھا تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ تباہی حزب اللہ کے راکٹ گرنے سے ہوئی یا ایرانی میزائل حملے میں ہوئی۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ دنیا آج مختلف یوم القدس کا مشاہدہ کرےگی۔
پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ القدس کی آزادی قریب ہے، فتح آزادی کے متلاشیوں اور مظلوموں کی دسترس میں ہے، آپریشن وعدہ صادق 4 کی 44ویں لہر آج صبح القدس کے شہداء کی یاد میں داغی گئی۔
ایرانی گارڈز کے مطابق پانچواں امریکی بحری بیڑہ اور امریکی اڈے بابرکت رمضان کی تئیسویں صبح نشانہ بنائے، مسلسل، جامع آپریشن میں میزائلوں اورڈرونز سے اسرائیلی اہداف کونشانہ بنا رہے ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق ڈرون وسطی اور مشرقی علاقوں، ریاض کے مغرب اور الخرج میں تباہ کیے گئے۔
سعودی حکام کے مطابق مختلف حملوں کی لہر میں اب تک مجموعی طور پر 22 ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں، اس سے قبل وزارتِ دفاع نے 14 ڈرون مار گرانے کی اطلاع دی تھی۔
امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بروجرد میں پولیس ہیڈ کوارٹر تباہ ہوگیا، تہران میں بسیج فورس کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، درجنوں گاڑیوں کو نقصان پنچا۔
اسرائیل کا کہنا ہے تہران میں ایسے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا گیا جہاں جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق سرگرمیاں جاری تھیں، ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو خطرہ لاحق ہے۔
ایران کا مزید کہنا ہے کہ پلانٹ سے چند کلومیٹر دور دھماکے ہوئے، حملوں سے آئی اے ای اے کی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
دبئی کے وسطی علاقے میں فضائی حملہ ناکام بنانے کے بعد ملبہ عمارت پر گر گیا۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق فضائی حملے کو کامیابی سے روک لیا گیا، ملبہ گرنے سے ایک عمارت کے اگلے حصے کو معمولی نقصان پہنچا، حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، حکام نے واضح نہیں کیا کہ حملہ میزائل سے کیا گیا تھا یا ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔
جنوبی کوریا کے سرکاری میڈیا نے دفاعی سسٹم تھاڈ کی منتقلی کی ویڈیو جاری کر دی۔
امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے جنوب میں پیونگٹائیک شہر میں واقع امریکا کے اوسان ائیر بیس سے دفاعی سامان منتقل کیا۔
ایران نے امریکا کے طیارہ بردار ابراہم لنکن پر بھی میزائلوں سے حملہ کر دیا، پاسداران انقلاب کاکہنا ہے کہ میزائل حملوں سے ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کو نقصان پہنچا ہے۔
لبنان پر اسرائیلی فورسز کے حملوں میں رات سے اب تک 8 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 2 مارچ سے جاری حملوں میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 687 ہوگئی جن میں 90 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیل نے لبنان کے ساتھ ساتھ ایران پر بھی وسیع پیمانے پر نئے حملے شروع کر دیے، رات گئے تہران اور دیگر شہروں میں دھماکے سنے گئے۔
جمعرات کی شب مخمور کے علاقے میں واقع پیشمرگہ بیس پر حملے میں متعدد فرانسیسی فوجی زخمی ہوئے تھے تاہم اب ایک فرانسیسی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ کردستان علاقے میں ہونے والے ایک حملے میں کئی فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملے بحرین کے دارالحکومت منامہ کے علاقے مینا سلمان میں قائم امریکی بحری اڈے پر کیا گیا، حملوں میں بیس کی مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں اینٹی ڈرون دفاعی نظام، ڈرونز کی اسٹوریج اور مرمت کے مراکز، سپورٹ آلات اور فیول ٹینکس شامل ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ادھر عراق میں امریکی طیارہ گر کر تباہ ہونے پر ایرانی فوج نے رد عمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کا ری فیولنگ طیارہ عراقی مزاحمتی فورسز نے مار گرایا اور طیارے میں سوار تمام اہلکار ہلاک ہوگئے۔
قبل ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی مغربی عراق میں امریکی طیارہ گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایندھن بھرنے والے طیارہ کے سی 135 مغربی عراق میں گرا اور دوسرا بحفاظت لینڈ کر گیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسرائیلی فوج نے ایران میں نیوکلیئر پروگرام کی اہم سائٹس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تہران کے قریب طالقان میں واقع سائٹ کو جنگی جہازوں نے نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب یونیسف نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک خطے میں 1100 سے زائد بچے لقمہ اجل بنے یا زخمی ہوچکے، ان میں 200 بچے ایران، 91 لبنان، 4 اسرائیل اور ایک بچہ کویت میں مارا گیا۔




