
واشنگٹن(اے ون نیوز)ایران میں امریکی پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے مشن میں تباہ ہونے والے امریکی دو ٹرانسپورٹ طیاروں کے بارے میں تفصیلات سامنے آگئیں۔
امریکی اخبار کے مطابق مشن کے دوران یہ طیارے ایک متروک ائیربیس پر لینڈنگ کے بعد زمین میں دھنس گئے تھے جس کے باعث امریکی فوجیوں کو انہیں تباہ کرنا پڑا۔
امریکی فضائیہ کے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے مطابق ریسکیو مشن میں استعمال ہونے والے دو MC-130J طیاروں کی مالیت فی طیارہ 100 ملین (10 کروڑ) ڈالر سے زائد ہے۔
امریکی فضائیہ کے مطابق یہ جدید طیارے دشمن کے علاقوں میں فوجی دستوں کی خفیہ نقل و حرکت، انفلٹریشن اور انخلا کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں جدید سینسرز نصب ہوتے ہیں جو فضائی دفاعی نظام، خصوصاً ہیٹ سیکنگ میزائلوں سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں جبکہ انہیں دورانِ پرواز ایندھن بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔
امریکی فضائیہ کے مطابق MC-130J خصوصی آپریشنز کے لیے low visibility پروازوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے خفیہ دراندازی، انخلا اور رسد کی فراہمی کے مشنز انجام دیتا ہے۔ یہ طیارہ خصوصی آپریشنز ہیلی کاپٹروں اور ٹِلٹ روٹر طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
یہ طیارے عموماً رات کے وقت مشنز انجام دیتے ہیں تاکہ دشمن کی نظروں سے بچا جا سکے۔
امریکی فضائیہ کے مطابق MC-130J جدید ڈیجیٹل ایویانکس، نیویگیشن سسٹم، اضافی فلائٹ ڈیک اسٹیشنز اور 6 بلیڈ والے ٹربو پراپ انجنز سے لیس ہے جو اسے مشکل حالات میں آپریشن کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ اس طیارے کی رینج تقریباً 3 ہزار میل ہے اور اس میں 2 پائلٹس، ایک کامبیٹ سسٹمز آفیسر اور 2 اسپیشل مشن ایوی ایٹرز پر مشتمل عملہ ہوتا ہے۔




