اہم خبریںپاکستانپنجابتازہ ترین

رضا ڈار کیس میں ہوشربا انکشافات، ملزمان نے خواتین سے اپنے ڈیجیٹل والٹ میں 19 ہزار ڈالر ٹرانسفر کروائے

لاہور (اے ون نیوز) لاہور پولیس نے غیرملکی متاثرہ خواتین کے اغوا اور مبینہ زیادتی کیس میں نامزد ملزم ’’باس‘‘ کو پکڑ لیا ہے، پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد ملزم ’باس‘ سمیت4 افراد کو رات گئے حراست میں لے لیا گیا، گرفتار ملزموں کے موبائل فون بھی فرانزک کیلئے بھیج دیئے گئے۔

نجی ٹی وی کے مطابق لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ ریپ کیس میں نامزد ملزم’باس‘ پکڑا گیا۔ پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں ایک خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔

گرفتار ملزمان میں سے تین افراد نے خاتون کا ریپ کیا ہے۔ پولیس نے زیرحراست ملزمان اور خواتین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے فرانزک لیب بھیج دیے ہیں۔

یاد رہے لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے اغواء اور مبینہ جنسی زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں اب تک کئی ہولناک انکشافات ہوئے ہیں، لیکن اس دوران سامنے آنے والے ایک پراسرار کردار نے اس پورے کیس کو کسی فلم کی طرح سنسنی خیز بنا دیا ہے، یہ کردار کوئی اور نہیں بلکہ وہ پردہ نشین ’باس BOSS‘ ہے، جس کا اشارہ ملتے ہی یہ پورا کھیل شروع ہوا اور جس کی مرضی کے بغیر گینگ کا کوئیارندہ ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ہسپانوی خاتون آسٹرڈ روبنس اور ان کی ساتھی سٹیفنی کے حلفیہ بیانات میں ایک ایسے شخص کا بار بار ذکر آیا ہے جو اس پورے گینگ کو چلا رہا تھا، جب خواتین کو حبسِ بے جا میں رکھ کر برہنہ کیا جا رہا تھا اور ان کے بینک اکاؤنٹس کے پاسورڈ مانگے جا رہے تھے تو موقع پر موجود کارندے مسلسل فون پر کسی سے ہدایات لے رہے تھے اور اسے ‘باس’ کہہ کر مخاطب کر رہے تھے، یہ ‘باس’ کون ہے؟ اس کیس میں دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کیلئے یہ کردار اب تک معمہ بنا ہوا ہے۔

متاثرہ خواتین کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ کمرے میں موجود ایک ملزم انتہائی روانی سے انگلش بول رہا تھا، جس نے دھمکی دی کہ اگر انہوں نے پیسے یا پاسورڈ نہ دیئے تو وہ یہاں سے زندہ نہیں جا سکتیں، اب سوال یہ ہے کہ کہیں یہی تو باس نہیں؟ خواتین کے بیانات کی روشنی میں یہ شخص جب وہاں سے چلا گیا تو رضا ڈار کے کمرے میں آنے اور سبز بیگ پر قبضہ کرنے کے بعد بھی فون کالز کا سلسلہ جاری رہا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ باس ہر لمحے کی لائیو اپڈیٹ لے رہا تھا۔

بیان سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ جب کالے کپڑوں میں ملبوس شخص نے خاتون کو دوسری منزل پر لے جا کر برہنہ کیا اور بڑی عمر کا شخص رائفل تان کر کھڑا ہوا، تو ان کے درمیان ہونے والی گفتگو سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کسی کے ملازم ہیں اور دی گئی ڈیوٹی پوری کر رہے ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تفتیشی ادارے اس پوشیدہ کردار کا اصل چہرہ بے نقاب کر پائیں گے؟ یا نائب وزیرِ اعظم کے خاندان کے گرد گھومتے اس ہائی پروفائل کیس میں اس ’باس‘ کا نام ہمیشہ کے لیے فائلوں میں ہی دب کر رہ جائے گا؟ یہ سسپنس آنے والے دنوں میں تفتیش مکمل ہونے پر ہی ختم ہو سکے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button