
لاہور (اے ون نیوز) پنجاب بار کونسل نے جعلی قانون کی ڈگریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 125 وکلاء کے لائسنس معطل کر دیئے ہیں، جبکہ انہیں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اصل تعلیمی اسناد اور ایل ایل بی کی اصل ڈگریاں بمعہ متعلقہ ثبوت پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی کی جانب سے 1,200 ایل ایل بی ڈگریوں کو مشکوک قرار دیتے ہوئے پنجاب بار کونسل کو مراسلہ ارسال کیا گیا تھا، جس کے بعد چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان ایڈووکیٹ کی نگرانی میں ریکارڈ کی تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی۔
جانچ کے دوران پنجاب بار کونسل کے ریکارڈ کے مطابق 125 وکلاء کی ڈگریاں مشکوک یا جعلی پائی گئیں، جس پر ایگزیکٹو کمیٹی نے فوری طور پر ان کے وکالت کے لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ باقی مشتبہ ڈگریوں کی سکروٹنی بھی تیزی سے جاری ہے۔
چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان ایڈووکیٹ نے بتایا کہ متعلقہ وکلاء کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور انہیں 18 جولائی 2026ء کو ذاتی حیثیت میں ایگزیکٹو کمیٹی کے روبرو اصل تعلیمی اسناد، ایل ایل بی کی اصل ڈگری اور متعلقہ ثبوت سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو وکیل اپنی ڈگری اور تعلیمی اسناد کی صداقت ثابت کرنے میں ناکام رہا یا بلاجواز پیش نہ ہوا، اس کے خلاف قانون کے مطابق وکالت کا لائسنس منسوخ کیا جائے گا، جبکہ جہاں ضروری ہوا وہاں فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔
فخر حیات اعوان کا کہنا تھا کہ پنجاب بار کونسل وکالت کے مقدس پیشے کے وقار، شفافیت اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کے لیے وکالت کے شعبے میں کوئی جگہ نہیں اور قانون کے مطابق ہر ذمہ دار شخص کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب بار کونسل جعلی ڈگریوں، جعلسازی اور ہر قسم کی بے ضابطگی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وکالت کے وقار، عدالتی نظام پر عوامی اعتماد اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی اقدام جاری رکھا جائے گا۔




