اہم خبریںتازہ ترینسندھ

میر رضا کیس، جامعہ کراچی بھجوائے گئے 9 سیمپلز ضائع، 4 کی رپورٹ پولیس کو موصول

کراچی(اے ون نیوز)کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی پراسرار موت کے کیس میں نئی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں میر رضا کے دونوں ہاتھوں پر بھی گن شاٹ ریزیڈیو (بارود کے ذرات) کے آثار ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سے قبل میر رضا کی کمر اور سینے پر گن شاٹ ریزیڈیو ملنے کے آثار پائے گئے تھے۔

جامعہ کراچی کی کیمیکل ایگزامنیشن لیبارٹری نے میر رضا علی کی قبر کشائی کے دوران حاصل کیے گئے نمونوں کا تجزیہ مکمل کرکے رپورٹ پولیس کو فراہم کردی ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کے دونوں ہاتھوں سے لیے گئے نمونوں میں ’گن شاٹ ریزیڈیو‘ کے آثار پائے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ہاتھوں پر ’گن شاٹ ریزیڈیو‘ کی موجودگی اس امکان کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ میر رضا نے اپنے دفاع میں خود کسی آتشی ہتھیار سے فائر کیا ہو۔ تاہم ذرائع کے مطابق اس ایک نتیجے کی بنیاد پر واقعے کو خودکشی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق کیمیائی تجزیے کے لیے حاصل کیے گئے 13 نمونوں میں سے چار کے صرف 4 کے نتائج سامنے آئے ہیں جب کہ باقی 9 نمونے ضائع ہوجانے کے باعث ان کی جانچ ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

میر رضا کیس میں نئی تفتیشی ٹیم کے قیام کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ قبر کشائی کے دوران مجموعی طور پر حاصل کیے گئے 17 فرانزک نمونے کئی روز گزرنے کے باوجود متعلقہ فورمز تک نہیں پہنچائے گئے تھے۔

میر رضا کے وکیل اور اہل خانہ نے بھی نمونوں کے متعلقہ لیبارٹیز تک پہنچانے میں تاخیر پر ان کے ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈی این اے اور دیگر اہم نمونوں کے لیب نہ پہنچنے کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں اور اس تاخیر پر متعلقہ تفتیشی افسران کو جواب دینا ہوگا۔

اس حوالے سے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام نمونے تفتیشی افسر کے حوالے کیے گئے تھے اور سیمپلز کو لیبارٹری تک بروقت پہنچانا ان ہی کی ذمہ دار تھی۔

دوسری طرف کیس کے موجودہ تفتیشی افسر غضنفر علی کا کہنا تھا کہ انہیں حال ہی میں تفتیشی کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے اور وہ سابقہ ٹیم میں شامل نہیں تھے، اس لیے وہ نمونوں میں ہونے والی تاخیر پر فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔

جامعہ کراچی کی تازہ رپورٹ میں میر رضا کی کمر اور سینے سے حاصل کیے گئے نمونوں میں بھی گن شاٹ ریزیڈیو کے آثار پائے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ کو کیس کے دستیاب شواہد کے ساتھ ملا کر تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

واضح رہے کہ میر رضا علی کی وجہ موت کے معاملے پر پولیس اور اہلِ خانہ کے مؤقف میں پہلے ہی اختلاف موجود ہے۔ دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد جسم پر متعدد چوٹوں اور گولی کے زخموں کی تفصیلات بھی سامنے آچکی ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق اس وقت کیس میں استعمال ہونے والا اسلحہ کی عدم برآمدگی اور جسم پر تشدد کے نشانات تفتیش کیلئے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ میر رضا علی 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر میں ایک گیسٹ ہاؤس کے پاس سے ملی تھی۔ پولیس نے ابتداء میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی تھی، تاہم اہل خانہ کا اصرار تھا کہ یہ خودکشی نہیں قتل ہے۔ تاہم عدالت کے حکم پر ہونے والی قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے میر رضا کے جسم پر تشدد کے نشانات سے تحقیقات کا رخ تبدیل ہوچکا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button