
کراچی(اے ون نیوز)میر رضا کی موت سے قبل آخری بارہ گھنٹوں کے دوران ہونے والی سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کی مرتب کردہ ٹائم لائن کے مطابق میر رضا آخری وقت تک سرمایہ کاری اور قرض کے حصول کی کوششوں میں مصروف رہا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ستائیس جولائی کی شام سے میر رضا کی جانب سے مختلف افراد سے رابطوں اور مالی معاملات سے متعلق سرگرمیاں جاری رہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی نے ان سرگرمیوں کے وقت اور مقام کی بنیاد پر ٹائم لائن مرتب کی ہے۔
ٹائم لائن کے مطابق ستائیس جولائی کی شام 5 بج کر 54 منٹ پر شارع فیصل پر میر رضا کی ایک شخص سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں 70 سے 80 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق بات چیت کی گئی۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے بعد بھی میر رضا کی سرمایہ کاری سے متعلق کوششیں جاری رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا اس سے قبل بھی ایک مشتبہ شخص کو متعدد مرتبہ سرمایہ کاری کی پیشکش کرچکا تھا۔
رات 7 بج کر 5 منٹ پر میر رضا کو بینک کی جانب سے کال موصول ہوئی، جس میں اسے بتایا گیا کہ اس کی بہن کے نام پر ایک کروڑ روپے کا قرض منظور ہوگیا ہے۔ تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس سے قبل بینک میر رضا کی ایک قرض درخواست مسترد کرچکا تھا۔
بعد ازاں رات 8 بج کر 23 منٹ پر ایک مشتبہ شخص نے میر رضا کو فون کیا اور سرمایہ کاری سے معذرت کرلی۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص کو میر رضا پہلے بھی متعدد مرتبہ سرمایہ کاری کی پیش کش کرچکا تھا۔
تحقیقاتی ٹائم لائن کے مطابق میر رضا نے ایک سرمایہ کار سے ٹیپو سلطان روڈ پر بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد بھی وہ دیگر افراد سے رابطے میں رہا۔ رات 11 بج کر 50 منٹ پر میر رضا نے اپنے دوست کے ہمراہ ایک کباب ہاؤس میں کھانا کھایا۔ ذرائع کے مطابق اس دوران میر رضا نے دیگر لوگوں سے بھی رابطے کیے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے میر رضا کی موت سے قبل آخری بارہ گھنٹوں کے دوران ہونے والی ان سرگرمیوں، ملاقاتوں اور رابطوں کو اپنی مرتب کردہ ٹائم لائن کا حصہ بنایا ہے۔
تاہم تحقیقاتی ذرائع کے مطابق میر رضا کے مبینہ قتل سے متعلق تاحال کوئی مثبت شواہد سامنے نہیں آسکے۔ کمیٹی کی مرتب کردہ ٹائم لائن میں موت سے قبل میر رضا کی جانب سے سرمایہ کاری اور قرض کے حصول کی کوششوں سمیت مختلف افراد سے رابطوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ میر رضا اٹھائیس جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کے پاس سے ملی تھی۔
پولیس نے ابتدائی طور پر اسے خودکشی قرار دینے کی کوشش کی تھی، لیکن اہل خانہ کے اصرار اور عدالت کے حکم پر ہونے والی قبر کشائی و دوسرے پوسٹ مارٹم نے جسم پر تشدد اور چوٹوں کے نشانات ظاہر کر کے کیس کا رخ موڑ دیا۔
فی الوقت کیس میں استعمال ہونے والے اسلحے کی عدم برآمدگی، ضائع ہونے والے ثبوت اور ملوث پولیس اہلکاروں کا تعین تفتیشی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔




