
دبئی(اے ون نیوز)دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے کاک پٹ میں جہاز اُڑاتے پائلٹ پر حملہ کرکے طیارے کا کنٹرول حاصل کرکے اسے تباہ کرنے کی مبینہ کوشش کرنے والے عمانی معاون پائلٹ ھمام الحمامی نے اہم انکشافات کیے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تفتیش سے واقف ذرائع کے بقول ھمام الحمامی نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ غزہ کا بدلہ لینا چاہتا تھا اور شہید ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔
ھمام الحمامی نے مبینہ منصوبہ بنایا تھا کہ پہلے طیارے کو معمول کے مطابق اڑاتے ہوئے اردن کی فضائی حدود عبور کرے گا پھر پائلٹ کو بے ہوش یا بے اثر کرکے پرواز کا کنٹرول سنبھالے گا۔
اس کے منصوبے میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ طیارے کو ضروری لینڈنگ اجازت نامے حاصل کرے گا اور اس کے بعد طیارے کو ایئرپورٹ کی کسی تنصیب یا کھڑے طیارے سے ٹکرا دے گا۔
ھمام الحمامی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اگر وہ اسرائیلی ایرپورٹ پر طیارہ گرانے میں کامیاب نہیں ہوسکا تو وہ اسے کسی بلند عمارت سے ٹکرا کر نائن الیون حملے کی یاد تازہ کردے گا۔
رپورٹ کے مطابق اسی منصوبے کے تحت اس نے اردن کی فضائی حدود عبور کرنے تک کاک پٹ کا کنٹرول حاصل کرنے میں تاخیر کی تاہم بھارتی پائلت سمت نے زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا۔
جس پر متعدد اسرائیلی مسافروں نے حملہ آور کو قابو کیا جبکہ دو آف ڈیوٹی پائلٹس نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا اور طیارے کو تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرائی جس میں 170 سے زائد مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ مشتبہ شخص انتہا پسند نظریاتی تربیت سے متاثر تھا۔ وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر ذرائع کے مطابق عمانی حکام نے گزشتہ سال اسے پرواز سے روک دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ ھمام الحمامی کے پاس مبینہ طور پر انتہا پسند مواد موجود تھا اور اس نے شام سمیت اسرائیل مخالف سمجھے جانے والے بعض ممالک کا سفر کیا تھا۔
پاکستان اور ترکیہ سعودی عرب کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے،ٹرمپ




