اہم خبریںتازہ تریندنیا

ایران کس طرح خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے اربوں ڈالر کا ملٹری ہارڈویئر حاصل کر رہا ہے؟

لندن(اے ون نیوز)برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے دنیا بھر میں قائم اپنے خفیہ فوجی نیٹ ورک کے ذریعے امریکی بحری ناکہ بندی اور مغربی ممالک کی کڑی اقتصادی پابندیوں کو کامیابی سے غیر مؤثر بناتے ہوئے جنوری 2025 سے اب تک کم از کم دو ارب ڈالر مالیت کا جنگی سازوسامان، دھماکہ خیز مواد اور ہیوی ڈیوٹی ٹرک درآمد کیے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق یہ خفیہ نظام وزارتِ دفاع کے مخفف ’ایم او ڈی‘ پر مشتمل ناموں کے پیچھے چھپی پانچ ہزار سے زائد ایسی ایجنسیوں پر مشتمل ہے جو ایک مضبوط مالی اور عسکری مشین کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان اداروں کے مالیاتی شواہد، بلز اور سنہ 2016 تک کے شپنگ ڈیٹا کے تار پاسدارانِ انقلاب اور ایران کے بااثر اشرافیہ کے زیرِ کنٹرول کاروباری اداروں سے جڑے ہوئے ہیں۔

رائٹرز نے اپنی اس رپورٹ میں اس معمہ سے پردہ اٹھایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو جنگ کے دوران ہزاروں کی تعداد میں ڈرونز اور میزائل داغنے کے باوجود اپنا اسلحہ اور میزائل ذخیرہ دوبارہ بھرنے کے لیے مسلسل رسد کیسے مل رہی ہے۔

رپورٹ میں موجود اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے جون 2026 کے درمیان ان میں سے صرف ایک ایجنسی ’ایم او ڈی 346428‘ نے راکٹ پروپیلنٹ، دھماکہ خیز مواد، ڈرونز اور میزائل سازی کے لیے اہم پرزہ جات اور میزائل لانچرز کے طور پر استعمال ہونے والے ہیوی ڈیوٹی ٹرکوں کی بڑی کھیپ درآمد کی۔

یہ تمام سامان زمینی، سمندری اور فضائی راستوں سے لایا گیا، جس میں سے بیشتر کی آمد کا ذریعہ چین، روس اور جرمنی ظاہر کیا گیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزارتِ دفاع کے زیرِ اثر یہ خفیہ ادارے فنڈز کی نقل و حرکت کے لیے جعلی کمپنیوں اور بیرونی فرنٹ مینوں کا سہارا لیتے ہیں جو غیر قانونی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عسکری سامان کی خریداری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان درآمدی سرگرمیوں میں ملوث سینئر فوجی کمانڈروں اور اہلکاروں کے مالیاتی اکاؤنٹس سرکاری بینکوں میں بھی موجود ہیں، جبکہ مغربی حکومتوں کی جانب سے تاحال ان مخصوص نمبروں والی ایجنسیوں کو براہِ راست پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے سابق عہدیدار اور ایران کے خلاف پابندیوں کے پروگرام کے ڈیزائن میں حصہ لینے والے ماہر میاد ملکی کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک ایران کے عسکری تجارتی نظام کا مکمل ماحولیاتی ڈھانچہ ہے جو اس تنازع میں اور اس سے قبل طویل عرصے سے حکومت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

تہران کی حکومت نے انکشافات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، جبکہ امریکی محکمہ خزانہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کے معاشی ذرائع کو محدود کرنے کے لیے ہمیشہ پیشگی اقدامات کر رہی ہے۔

دستاویزات اور شپنگ ریکارڈ کے تجزیے سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنگ کے دوران ناکہ بندی کے باوجود ایران کی فوجی درآمدات کا سلسلہ جاری رہا۔

چین اور روس کے علاوہ یورپی یونین کے رکن ممالک، جن میں جرمنی اور اٹلی شامل ہیں، ان کی کمپنیوں سے بھی ٹرک، ہوائی جہاز کے انجن کے پرزے اور الیکٹرانکس درآمد کیے گئے، اور ان تمام دستاویزات پر متعلقہ ایرانی ایجنسی کا نام درج تھا۔

درآمدی سامان میں جدید کمپیوٹر کنٹرولڈ لیتھ، الیکٹران بیم فرنسز اور پارٹنر ایکسلریٹر جیسی مشینری بھی شامل ہے جو عسکری سازوسامان کی تیاری میں استعمال ہو سکتی ہے۔

رتپورٹ کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وسیع پیمانے پر درآمدی نظام تہران کی عسکری صلاحیتوں کو برقرار رکھنے اور پابندیوں کو چکمہ دینے کی غیر معمولی صلاحیت کا واضح مظہر ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button