
کراچی(اے ون نیوز)کراچی کے علاقے ناظم آباد کے نجی اسپتال میں زچگی کے معاملے پر ہونے تنازع سے متعلق سروسز اسپتال اور پولیس کی رپورٹس سامنے آگئی ہیں۔ رپورٹس میں خاتون کے حاملہ نہ ہونے اور نجی اسپتال کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ کی جانب سے غیر ذمہ داری کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سروسز اسپتال کی جانب سے واقعے سے متعلق تیار کی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون حاملہ نہیں تھی، تاہم اس نے مبینہ طور پر الٹراساؤنڈ کی ایک جعلی رپورٹ تیار کروا رکھی تھی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق نجی اسپتال کی انتظامیہ اور متعلقہ ڈاکٹرز نے بغیر کسی تصدیق کے اسی جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹ کی بنیاد پر خاتون کا سی سیکشن (آپریشن) کیا۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون اسی نجی اسپتال میں چھ سےسات گھنٹے تک داخل رہی۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ خاتون کا گزشتہ سال بھی حمل ضائع ہو چکا تھا۔
پولیس کی جانب سے بھی اس معاملے کی تفتیش مکمل کرلی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون یا اس کے اہل خانہ نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف باقاعدہ درخواست دی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک شہری نے ناظم آباد کے ایک نجی اسپتال پر اہلیہ کی زچگی کے بعد نومولود بچہ غائب کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ شہری کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاس اہلیہ کے تمام الٹرا ساؤنڈ اور 38 ہفتوں کا ریکارڈ موجود ہے جس کے مطابق اس کی اہلیہ حاملہ تھی تاہم آپریشن کے بعد ڈاکٹرز نے اہلیہ کے حاملہ ہونے سے انکار کر دیا۔
اس معاملے پر نجی اسپتال کے گائنی وارڈ کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن کا کہنا تھا کہ خاتون مریضہ حاملہ نہیں تھی۔ ان کے مطابق خاتون پہلی بار فروری میں معائنے کے لیے آئی تھیں اور اُس وقت کے الٹرا ساؤنڈ میں حمل کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
ڈاکٹر انجم آرا حسن نے دعویٰ کیا کہ مریضہ کی فائل میں موجود بعض رپورٹس مشکوک ہیں جبکہ دوسرے اسپتال کی پیش کی گئی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ بھی مبینہ طور پر جعلی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی میں آنے پر ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹر نے اسی جعلی رپورٹ کی بنیاد پر خاتون کے ضروری ٹیسٹ کے بعد آپریشن کیا، جس میں معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں تھی۔




