اہم خبریںپنجابتازہ ترین

لاہور، آذربائیجان کی 20 سالہ خاتون سے مبینہ زیادتی، مرکزی ملزم گرفتار، مزید 6 افراد زیرِ حراست

لاہور(اے ون نیوز)لاہور کے علاقے ڈیفنس میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ غیرملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

پولیس نے مرکزی ملزم محسن کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ شاہدرہ پولیس نے مزید 6 افراد کو حراست میں لے کر انہیں ڈیفنس سی پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں جسم پر زخموں کے نشانات اور مبینہ زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق شاہدرہ سے حراست میں لیے گئے 6 افراد مرکزی ملزمان کے قریبی دوست ہیں اور ان تمام افراد کا واقعے کے مبینہ ملزمان کے ساتھ رابطہ رہا ہے۔ پولیس مزید تحقیقات کے لیے زیرحراست افراد سے تفتیش کر رہی ہے۔

میڈیا نے متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ بھی حاصل کر لی ہے، جس کے مطابق خاتون کے کندھے پر دباؤ اور گھٹنے پر زخم کے نشانات پائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون کے جسم سے ڈی این اے سیمپل کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں، جبکہ مخصوص جسمانی اعضا پر موجود نشانات سے مبینہ زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون اور گرفتار افراد کے بیانات کے ساتھ میڈیکل رپورٹ، موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ غیر ملکی خاتون چند روز قبل لاہور پہنچی تھی۔ خاتون کے بیان کے مطابق 25 ستمبر کی رات دو نامعلوم لڑکیاں انہیں ایک کیفے میں لے گئیں، جہاں تین دیگر افراد پہلے سے موجود تھے۔

متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ کیفے میں انہیں نشہ آور چیز پلائی گئی، جس کے بعد انہیں مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون کے مطابق واقعے کے بعد انہیں ایئرپورٹ کے قریب چھوڑ دیا گیا اور مبینہ ملزمان وہاں سے فرار ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران خاتون کی ٹریول ہسٹری اور بعض بیانات میں تضاد سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق خاتون کی جانب سے لاہور میں تین مرتبہ آنے اور کپڑوں کے کاروبار سے متعلق بتائی گئی وجوہات کے حوالے سے بھی تاحال واضح شواہد سامنے نہیں آسکے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کے لاہور میں متعدد افراد سے رابطوں کا بھی ریکارڈ سامنے آیا ہے، جس کی بنیاد پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد اور متاثرہ خاتون کے بیانات، میڈیکل رپورٹ، موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد کو سامنے رکھ کر واقعے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا کے مطابق واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی شناخت کرلی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ذیشان رضا نے کہا کہ مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا ہے، جبکہ جائے وقوعہ اور دیگر مقامات سے حاصل کیے گئے شواہد کے ساتھ فارنزک شواہد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق حتمی نتیجہ تمام شواہد، میڈیکل رپورٹ، فارنزک رپورٹس اور فریقین کے بیانات کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button