اسلام آ باد (اے ون نیوز ) سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ میرا واٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے،خدشہ ہے کہ ڈیٹا کو کسی خاص مقصد کےلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
میرا وٹس اپ ہیک کرنے والوں کو شرمندگی ہی ہوگی،جو شخص آج عدالتوں پر حملہ آور ہے وہ کبھی عدالتوں کا پسندیدہ رہا ہے،صرف ایک مقدمہ کے سوا اسے ہمیشہ عدالتوں سے ریلیف ہی ملتا رہا ہے، عمران خان کو مکمل طور پر صادق اور امین قرار نہیں دیا تھا، اسے سیاسی رنگ دیا گیا، میں نے غلط فیصلے کیے ہوں گے،ملک کی بقا کے لیے جوفیصلے کیے ان پر عملدرآمد کیوں نہیں کرتے؟میں اب کسی کو انٹریو نہیں دوں گا،میرے مرنے کے بعد ایک کتاب شائع ہوگی جس میں تمام حقائق ہوں گے،1997سے لیکر چیف جسٹس کے عہدے تک کی ساری کہانی لکھوں گا۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہ دوروز سے میرا وٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے ، ابھی تک ریکور نہیں ہوا۔خدشہ ہے کہ میرے موبائل ڈیٹا کو کسی خاص مقصد کےلیے استعمال کیا جاسکتا ہے، میرا وٹس اپ ہیک کرنے والوں کو شرمندگی ہی ہوگی ،اس سے قبل بھی میری مختلف ویڈیوز کو جوڑ کر ایک آڈیو بنائی گئی تھی،کسی کی نجی زندگی میں مداخلت چوری کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آج کل عدالتی فیصلوں پر وہ بات کر رہے ہیں جنہیں قانون کی زبر زیر معلوم نہیں،جو شخص آج عدالتوں پر حملہ آور ہے وہ کبھی عدالتوں کا پسندیدہ رہا ہے،صرف ایک مقدمہ کے سوااسے ہمیشہ عدالتوں سے ریلیف ہی ملتا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب چیف جسٹس نہیں بنا تھا تو نواز شریف نے مختلف حلقوں میں کہنا شروع کیا کہ یہ اپنا چیف ہے،میں نے پانامہ کیس میں خود کو بینچ سے الگ کرلیا تھا۔نااہلی کیس میں معیاد سے متعلق اوپن نوٹس کردیا تھا کہ جو بھی معاونت کرنا چاہے کرے۔نااہلی کی معیاد کا تقرر آئین قانون کی روشنی میں کیا۔ ثاقب چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عمران خان کو مکمل طور پر صادق اور امین قرار نہیں دیا تھا، اسے سیاسی رنگ دیا گیا۔عمران خان کو 3 نکا ت پر صادق اور امین قرار دیا تھا۔اکرم شیخ نے عمران خان سے متعلق 3 نکات لکھ کر دئیے کہ ان پر فیصلہ کیا جائے۔
تینوں نکات پر عمران خان صادق اور امین ثابت ہوئے تھے۔عمران خان کیخلاف 3 نکات پر میری ججمنٹ آج بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پی کے ایل آئی کی فرانزک رپورٹ کا اگر کوئی جائزہ لے تو سر پکڑ کر بیٹھ جائے،پی کے ایل آئی کے سربراہ کو ایک پیر کے کہنے پر لگایا گیا۔ملک کے مسائل کا حل الیکشن میں ہے۔2018میں بھی الیکشن کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں جسے ناکام بنایا تھا،گواہ بابر یعقوب ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میں نے غلط فیصلے کیے ہوں گے،ملک کی بقا کے لیے جوفیصلے کیے ان پر عملدرآمد کیوں نہیں کرتے؟میں اب کسی کو انٹریو نہیں دوں گا،میرے مرنے کے بعد ایک کتاب شائع ہوگی جس میں تمام حقائق ہوں گے،1997سے لیکر چیف جسٹس کے عہدے تک کی ساری کہانی لکھوں گا۔