
کراچی(اے ون نیوز)میر رضا قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں یونیورسٹی روڈ پر واقع نرسری کی 28 اور 29 جولائی کی خصوصی سی سی ٹی وی فوٹیج نے لاش ملنے سے لے کر اسے موقع سے منتقل کیے جانے تک کے واقعات کی ٹائم لائن واضح کردی ہے۔ اس معاملے کے بعد کیس کی تفتیش اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے طریقہ کار پر اہم سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں 28 جولائی کو اسی مقام پر مالی پودوں کو پانی دیتا رہا، تاہم اس روز کی فوٹیج میں وہاں کوئی لاش نظر نہیں آئی۔ اگلے روز 29 جولائی کو بھی مالی حسب معمول پودوں کو پانی دینے کے لیے موقع پر موجود تھا، تاہم اسی دوران اسے مبینہ طور پر وہاں لاش نظر آئی۔
فوٹیج میں دکھائی دیتا ہے کہ 29 جولائی کو صبح 11 بج کر 52 منٹ پر مالی پودوں کو پانی دے رہا تھا، اسی دوران اس نے مبینہ طور پر لاش کو دیکھا۔ واقعے کے بعد دوپہر 12 بج کر 24 منٹ پر 2 پولیس اہلکار موٹر سائیکل پر جائے وقوعہ پر پہنچے۔
سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا کہ 12 بج کر 41 منٹ پر پولیس اہلکار موقع پر موجود ایک موبائل فون چیک کرتے ہوئے بھی نظر آئے، جبکہ 12 بج کر 50 منٹ پر ایدھی ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
فوٹیج میں مزید دیکھا گیا کہ ایدھی ایمبولینس تقریباً ایک گھنٹے تک موقع پر موجود رہی اور دوپہر 1 بج کر 46 منٹ پر لاش کو لے کر وہاں سے روانہ ہوگئی۔
خصوصی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد ایک اہم سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ جائے وقوعہ پر کرائم سین یونٹ کیوں دکھائی نہیں دیا۔ فوٹیج میں کرائم سین یونٹ کی موجودگی نظر نہیں آتی، جس کے باعث جائے وقوعہ کو محفوظ بنانے اور وہاں سے اہم شواہد اکٹھے کرنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ بروقت محفوظ نہ ہونے کی صورت میں اہم شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موقع سے شواہد اکٹھے کرنے کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں تمام ضروری قانونی اور فرانزک تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں۔
28 جولائی اور 29 جولائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے تقابلی جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ 28 جولائی کو مالی اسی مقام پر پودوں کو پانی دیتا رہا لیکن اس وقت کوئی لاش دکھائی نہیں دی، جبکہ 29 جولائی کو اسی مقام پر مالی نے لاش دیکھنے کی اطلاع دی۔
میر رضا کیس میں لاش ملنے سے لے کر پولیس کی آمد اور پھر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے لاش منتقل کیے جانے تک کے اہم لمحات سی سی ٹی وی کیمروں نے محفوظ کرلیے ہیں۔ خصوصی فوٹیج کے منظر عام پر آنے کے بعد کیس کی تفتیش کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دینا متعلقہ تفتیشی اداروں کے لیے اہم ہوگا۔




