
واشنگٹن (اے ون نیوز) صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر مدورو کی گرفتاری کے لیے کیے گئے حملے کو ایک "شاندار کارروائی” قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔
انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ یہ حملہ کاراکاس کے قلب میں واقع ایک انتہائی محفوظ فوجی قلعے میں کیا گیا، جو کہ ایسا تھا جیسا لوگوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد آمر مادورو کو انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا۔
ٹرمپ نے اس آپریشن کو امریکی تاریخ میں امریکی فوجی طاقت اور مہارت کا ایک حیران کن، مؤثر اور طاقتور مظاہرہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا”دنیا کی کوئی بھی قوم وہ حاصل نہیں کر سکتی تھی جو امریکہ نے حاصل کیا، یا سچی بات تو یہ ہے کہ محض تھوڑے سے وقت میں وینزویلا کی تمام فوجی صلاحیتوں کو بے بس کر دیا گیا۔”
انہوں نے مزید کہا "ہمارا ایک بھی فوجی ہلاک نہیں ہوا، اور امریکہ کا ایک بھی ساز و سامان ضائع نہیں ہوا۔ اس لڑائی میں ہمارے بہت سے ہیلی کاپٹر، بہت سے طیارے اور بہت سے لوگ شامل تھے۔”
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ وینزویلا میں دوسرے اور کہیں بڑے حملے کے لیے تیار ہے، لیکن پہلے آپریشن کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے شاید اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا "ہمارا خیال تھا کہ دوسری لہر (حملے) کی ضرورت ہوگی لیکن شاید اب نہیں ہے۔ پہلا حملہ اتنا کامیاب رہا کہ ہمیں غالباً دوسرا حملہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک اقتدار کی "محفوظ منتقلی” نہیں ہو جاتی، امریکہ وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا۔ "ہم اس ملک کو اس وقت تک چلائیں گے جب تک ہم ایک محفوظ، مناسب اور منصفانہ منتقلی نہ کر لیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی اور شخص اقتدار میں آئے اور وہی صورتحال دوبارہ پیدا ہو جائے جو ہم گزشتہ کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔”
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکی عدالتوں کے پاس مدورو کے جرائم کے "ناقابلِ تردید ثبوت” موجود ہیں۔ انہوں نے کہا، "یہ ہولناک اور ہوش ربا دونوں ہیں۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مادورو اقتدار میں رہے اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے خلاف تشدد، دہشت گردی اور تخریب کاری کی مسلسل مہم چلائی، جس سے نہ صرف ہمارے لوگ بلکہ پورے خطے کے استحکام کو خطرہ لاحق رہا۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا میں امریکی مداخلت سے امریکی تیل کمپنیوں کے لیے نئے دروازے کھلیں گے، جو جلد ہی ملک میں توانائی کے بڑے منصوبوں میں حصہ لیں گی۔انہوں نے دعویٰ کیا "جیسا کہ سب جانتے ہیں، وینزویلا میں تیل کا کاروبار ایک طویل عرصے سے مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
وہ اپنی اصل صلاحیت کے مقابلے میں تقریباً کچھ بھی پمپ نہیں کر رہے تھے۔ ہم اپنی بہت بڑی امریکی تیل کمپنیوں کو وہاں بھیجیں گے، جو دنیا میں سب سے بڑی ہیںتاکہ وہ اربوں ڈالر خرچ کریں، تباہ حال انفراسٹرکچر کو ٹھیک کریں، اور ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں۔”
ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا تیزی سے ہمارے خطے میں غیر ملکی دشمنوں کی پناہ گاہ بن رہا تھا اور خطرناک جارحانہ ہتھیار حاصل کر رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے کچھ ہتھیار گزشتہ رات امریکی افواج کے خلاف استعمال کیے گئے۔
انہوں نے کہا، "دیگر حکومتوں نے مغربی نصف کرے میں بڑھتے ہوئے ان سیکورٹی خطرات کو نظر انداز کیا یا حتیٰ کہ ان میں حصہ ڈالا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت، ہم اپنے خطے میں امریکی طاقت کا بہت زوردار طریقے سے اعادہ کر رہے ہیں۔”
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی آپریشن "ہر اس شخص کے لیے ایک وارننگ ہونا چاہیے جو امریکی خودمختاری کو خطرے میں ڈالے گا یا امریکی جانوں کو خطرے میں ڈالے گا”۔
انہوں نے مزید کہا، "امریکی بیڑہ اپنی پوزیشن پر مستعد ہے، اور امریکہ کے پاس تمام فوجی آپشنز اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک کہ امریکی مطالبات مکمل طور پر تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ وینزویلا کی تمام سیاسی اور فوجی شخصیات کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جو مادورو کے ساتھ ہوا وہ ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔اور اگر وہ اپنی عوام کے ساتھ منصفانہ رویہ نہیں رکھیں گے تو ایسا ضرور ہوگا۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی افواج چھاپے کے دوران مدورو کو ہلاک کر سکتی تھیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ "ایسا ہو سکتا تھا. وہ ایک محفوظ جگہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا”۔
ٹرمپ نے بتایا، "وہاں بہت زیادہ فائرنگ ہو رہی تھی. وہ ایک محفوظ جگہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا، جو کہ محفوظ نہیں تھی کیونکہ ہم اس دروازے کو اڑا دیتے۔ وہ دروازے تک پہنچ گیا تھا لیکن اسے بند کرنے میں ناکام رہا۔”




