
کراچی(اے ون نیوز)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ کے سبب عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہوگیا، دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 27 ہوگئی، ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لاپتا افراد کی فہرست 83 تک پہنچ گئی ہے۔
ڈاکٹر سمیہ طارق کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 27 ہوگئی جبکہ تمام افراد کا پوسٹ مارٹم بھی مکمل کر لیا گیا۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا گیا۔
پولیس سرجن نے بتایا کہ 33 سالہ مصباح دختر عرفان کی میت ورثاء کی سپر د کی جائے گی، خاتون مصباح کی فیملی کے دیگر4 افراد بھی سانحہ گل پلازہ میں لاپتا ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 8 میتیوں کو شناخت کیا جا چکا ہے۔
ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ بلڈنگ کا 40 فیصد حصہ گر چکا ہے، ایس بی سی اے کے ماہرین نے معائنے کے بعد بتایا ہے کہ دیگر حصے بھی انتہائی کمزور ہے۔ تاجروں سے گزارش ہے کہ ہم سے تعاون کریں اور ریڈ زون سے دور رہیں۔
ڈی سی کا کہنا تھا کہ آج عمارت کے اندر داخل ہوکر سرچنگ کی جائے گی، لاپتا افراد کی فہرست میں 83 نام شامل ہیں جبکہ بعض نام دو بار شامل کر لیے گئے اس لیے 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، 39 افراد کی لوکیشن گل پلازہ آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کی ڈی مولش ٹیم ہمارے ساتھ موجود ہے، جو وقتاً فوقتاً ہمیں بتا رہی ہے کہ ہمیں کس طرح آپریشن کرنا ہے۔
ڈی سی نے بتایا کہ صبح تیسری اور چوتھی منزل پر ریسکیو اہلکاروں کو بھیجا گیا، تفصیلی سروے کیا ہے لیکن ہمیں کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہے کہ عمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی، وہاں راستہ بنا کر ٹیمیں بھیجیں گے، اللہ کرے ہمیں راستہ مل جائے۔
انہوں نے کہا کہ چھت پر موجود گاڑیاں اتار کر مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں، کچھ موٹر سائیکلیں موجود ہیں انہیں بھی اتروا لیا جائے گا۔
جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے فوری بعد 15 سے 20 منٹ میں ہم نے تین جگہوں سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن آگ میں اتنی شدت تھی کہ کوئی قریب نہیں جا پا رہا تھا۔ ایم اے جناح روڈ سے ریسکیو اہلکاروں نے داخل ہونے کی کوشش کی اور وہاں سے کچھ لوگوں کو ریسکیو بھی کیا جبکہ اس دوران ہمارے ریسکیو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
ڈی سی نے کہا کہ جہاں جہاں سے ہم داخل ہونے کی کوشش کر سکتے تھے وہاں سے داخل ہونے کی کوشش کی گئی، جہاں سے ریسکیو کر سکتے تھے وہاں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کیا۔
انہوں نے کہا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ اور تیز تھی، اسی وجہ سے یہ مسئلہ درپیش آیا۔ آگ کی شدت کے باعث ریسکیو اہلکار گل پلازہ میں داخل نہیں ہو پا رہا تھا، ہم نے 32 مرتبہ عمارت میں جانے کی کوشش کی ہے۔
ڈی سی کا کہنا تھا کہ ہم نے4 پوائنٹ کی نشاندہی کرکے وہاں ہولز بھی بنائے، بندے بھی بھیجے اور کچھ حد تک اندر بھی گئے لیکن آگ کی شدت کی وجہ سے بندے زیادہ اندر نہیں جا سکے۔
گزشتہ روز ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور لاپتا افراد کی تلاش میں آپریشن شروع کیا، پہلی منزل پر لاشوں کی تلاشی کا کام مکمل ہوگیا اور اب دوسری منزل پر زندہ یا مردہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی جس پر فائر بریگیڈ کی گاڑی نے پھر سے پانی برسانا شروع کر دیا، جسے تھوڑی دیر بعد کنٹرول کر لیا گیا۔
گل پلازہ میں اندھیرا ہونے کے باعث ریسکیو اہلکار ٹارچ کے ذریعے عمارت میں موجود شہریوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ ریسکیو عملے کے افراد کو عمارت کے اندر انسانی اعضا مل رہے ہیں جبکہ لاشیں نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔




