
جنیوا (اے ون نیوز) سپین اور جرمنی کے بعد سوئٹزرلینڈ نے بھی ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
سوئس کابینہ کا حوالہ دیتے ہوئے سوئس وزیر دفاع فِسٹر نے بتایاکہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملہ کرکے بین الاقوامی قانون کو توڑا ہے، تمام فریق سویلین آبادی کے تحفظ کیلئے لڑائی بند کردیں۔
سوئس وزیر دفاع فِسٹر کے مطابق فیڈرل کونسل کی رائے ہے کہ ایران پر حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، ہمارے نزدیک یہ تشدد کی ممانعت کے قانون کی خلاف ورزی ہے، وہ ان تمام ممالک کا ذکر کر رہے ہیں جو تشدد کی ممانعت کی پاسداری نہیں کر رہے، بشمول امریکا اور اسرائیل۔
دوسری طرف سپین کے وزیراعظم نے ایک بار پھر ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے خلاف آواز اٹھادی اور کہاکہ گزشتہ چند روز سے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایران جنگ کی مخالفت کرکے سپین دنیا میں تنہا رہ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اس وقت بھی یہ باتیں پھیلائی تھیں جب سپین نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا تھا، پھر اس کے بعد دیگر ملکوں نے بھی یہی قدم اٹھایا تو ہم تنہا نہیں ہم پہل کرنے والے ملک ہیں اور اب دیگر ملک بھی ایران جنگ کی مخالفت کررہے ہیں، آخر میں وہی لوگ تنہائی کا شکار ہوں گے جو اس جنگ کی حمایت کررہے ہیں۔




