نوشہرہ ،چھوٹے جھگڑے پر خون کی ہولی،4 سگے بھائیوں سمیت 7 افراد قتل

نوشہرہ(بیورورپورٹ)نوشہرہ کے علاقہ میاں عیسیٰ میں بھاڑ لگانے پر تنازعہ،زبانی تکرار کے بعد خون کی ہولی کھیلی گئی،فریقین کے مابین فائرنگ 4سگے بھائیوں سمیت 7افراد جان کی بازی ہار گئے،چاروں سگے بھائیوں کو والدہ کے سامنے فائر کرکے قتل کردیا گیا .
مصری بانڈہ پولیس نے الگ الگ مقدمات درج کر دیئے علاقے میں شدید خوف و ہراس پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ کر پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تفتیش شروع اس سلسلے میں بسمین زوجہ حسن الدین ساکن محلہ ترکانان میاں عیسیٰ نے پولیس کو یوں رپورٹ درج کراتے ہوئے بتایا .
میں اپنے بیٹوں واحد علی،محمد علی اور صالح الدین سمیت دیگر اہلخانہ کے ہمراہ گھر میں موجود تھے اور میرا بیٹا محمد زاہد اپنے اراضیات پر کام میں مصروف تھا کہ اس دوران باہر شور کی آواز سن کر میرے تینوں بیٹے باہر جا کر جبکہ میں نے گھر کے دروازے سے دیکھا تو مسماة مینہ انگریزہ زوجہ زرغون شاہ میرے بیٹے محمد زاہد کے ساتھ تکرار کر رہی تھی.
میرے تینوں بیٹوں نے تکرار ختم کرنے اور بچ بچاو کی خاطر آگے بڑھے تو اس دوران ظہور،ماجد،شہزاد پسران زرغون شاہ نے مسلح ہوکر اپنے گھر کی چھت پر موجود کھڑے تھے اور مسماة مینہ انگریزہ نے اپنے بیٹوں کو بلند آواز دی کہ ان کو گولی مارو آواز دینے پر تینوں نے اپنی اپنی اسلحہ سے میرے بیٹوں پر فائرنگ شروع کردی جن کی فائرنگ سے میرا بیٹا صالح الدین،محمد علی لگ کر موقعہ پر جاں بحق ہوگئے .
دیگر دو بیٹے محمد زاہد اور واحد علی زخمی ہوگئے جن کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جاتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ کر جاں بحق ہوئے وجہ عناد بھاڑ لگانے پر تکرار بتایا جارہاہے .
اسی واقعے میں دوسرے فریق سے مسماة جمیلہ بیوہ گل محمد عرف ظہور نے پولیس کو یوں رپورٹ درج کراتے ہوئے بتایا کہ میں اپنے شوہر مقتول گل محمد،سسر زرغون شاہ اور دیور،ماجدکے ساتھ گھر میں موجود تھی کہ شور کی آواز سن کر باہر نکلے.
ہمارے گھر کے باہر پہلے سے موجود مسلح حسن الدین ولد نامعلوم،واحد علی،صالح،محمد علی پسران حسن الدین اور ایک شخص جسکا نام ولدیت و سکونت معلوم نہیں کھڑے تھے اور میرے سسر کو گالی گلوچ کر رہے تھے.
اس دوران میرے شوہر،سسر اور دیور نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن متذکرہ بالا اشخاص نے مزید مشتعل ہو کر فائرنگ شروع کر دی اس دوران میرا شوہر،سسر اور دیور نے اپنی جان بچانے کی خاطر قریبی اراضیات کی طرف بھاگنے کی کوشش کی.
ہم بھی ان کے پیچھے چلے گئے لیکن متذکرہ بالا اشخاص نے میرے شوہر گل محمد عرف ظہور، سسر زرغون شاہ اور دیور ماجد پر فائرنگ کردی جس سے تینوں موقعہ پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ میں اور ہمارے گھر کے دیگر افراد معجزانہ طور پر بال بال بچ گئے پولیس نے الگ الگ مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی.
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ علاقے کو پولیس نے گھیرے میں لے کر بھاری نفری تعینات کردی ہے،اور ایک ہی گھر سے بیوہ خاتون کے چار جوان بیٹوں کے ایک ساتھ جنازوں سے علاقے کی ہر آنکھ اشکبار تھی جنازوں کے وقت سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔




