اہم خبریںپاکستانتازہ ترینسندھ

منشیات فروش پنکی کیس کی تفتیش میں سنسنی خیز موڑ

کراچی(اے ون نیوز)کراچی میں منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کیس کی تفتیش میں ایک سنسنی خیز موڑ سامنے آگیا ہے، جہاں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے 2 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

کراچی کا ہائی پروفائل ’انمول عرف پنکی کیس‘جہاں قانون کے رکھوالے ہی قانون توڑنے والوں کے مبینہ سہولت کار بنے ہوئے تھے، محکمہ انسدادِ دہشت گردی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اپنی ہی صفوں میں موجود 2 کالی بھیڑوں کو دھرلیا۔

حراست میں لیے گئے اہلکاروں میں اے ایس آئی کفیل اور سپاہی علی قریشی شامل ہیں۔ یہ دونوں قانون کے وردی پوش اور سی ٹی ڈی سول لائنز جیسے انتہائی حساس محکمے میں تعینات تھے لیکن ان کے رابطے انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک سے جا ملے۔

سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل فارنزک اور موبائل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے دوران یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا کہ دونوں اہلکار پنکی کے ساتھ باقاعدگی سے رابطے میں تھے اور مبینہ طور پر تفتیش کے اہم رازوں تک رسائی دے رہے تھے دونوں کو خفیہ مقام پر منتقل کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ جرم میں شریک کسی بھی اہلکار کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اس سے قبل متعلقہ کیس کے ضلعی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) علی حسن کو معطل کیا گیا تھا جب کہ ایس ایس پی کی معطلی کا نوٹیفکیشن وزیر داخلہ سندھ کی ہدایت پر جاری کیا گیا تھا۔

دوسری جانب آئی جی سندھ جاوید اوڈھو نے کہا تھا کہ پنکی کے کیس میں کئی معتبر نام ہیں، منشیات کے کاروبار میں بہت سے لوگوں کے نام نکل سکتے ہیں۔ پنکی زیادہ لاہور میں رہتی تھی۔ ایک ٹاسک فورس بنا رہے ہیں۔ آپ انہیں معلومات فراہم کریں۔

واضح رہے کہ 12 مئی کو پولیس اور ایک وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ملزمہ کے پُرتعیش انداز، گاہکوں سے سودے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرنے کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی تھی۔

کراچی پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں نامزد اور مفرور قرار دی جا چکی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اسے پہلی بار 2018 میں کراچی میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم مبینہ اثر و رسوخ کے باعث وہ جلد ضمانت پر رہا ہوگئی تھی۔ بعد ازاں لاہور اور اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں درج مقدمات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد یہ کیس مزید حساس ہوگیا ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ کراچی سے لاہور تک پھیلے اربوں روپے مالیت کے منشیات نیٹ ورک کی مرکزی کردار ہے۔ اس مبینہ نیٹ ورک میں اس کے قریبی رشتہ دار، خصوصاً بھائی بھی شامل ہیں جب کہ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین بائیک رائیڈرز کا استعمال بھی کیا جاتا تھا۔ تفتیشی رپورٹس کے مطابق ملزمہ نہ صرف منشیات کی سپلائی بلکہ کوکین کی تیاری میں بھی مہارت رکھتی ہے اور اس نے مبینہ طور پر اپنا ایک الگ برانڈ متعارف کرا رکھا تھا۔

کراچی کی مقامی عدالت نے 12 مئی کو ملزمہ کا تین مقدمات میں جسمانی ریمانڈ دیا تھا جو آج رات 12 بجے مکمل ہو رہا ہے، سرکاری وکلاء کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کو ہفتے کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button