اہم خبریںتازہ تریندنیا

نیویارک، خاتون کا چاقو سے حملہ، بینک آف امریکہ کی نائب صدر ہلاک

نیو یارک(اے ون نیوز)امریکا کے شہر نیویارک کے معروف ٹائمز اسکوائر میں 49 سالہ خاتون نے 2 افراد پر چاقوؤں سے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں بینک آف امریکا کی نائب صدر 32 سالہ ایرن پیاسیئنٹی ہلاک اور 68 سالہ شخص زخمی ہوگیا جب کہ حملہ آور خاتون بھی پولیس کی فائرنگ سے ماری گئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ پیر کے روز افسوسناک واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 24 منٹ پر ویسٹ 41 ویں اسٹریٹ اور سیونتھ ایونیو کے قریب پیش آیا، جہاں پولیس کے 911 کال سینٹر کو متعدد کالز موصول ہوئیں، جن میں بتایا گیا کہ دو چاقوؤں سے مسلح ایک خاتون لوگوں پر چاقو سے حملے کر رہی ہے۔

پولیس کمشنر جیسیکا ٹش نے واقعے کو ’’بلااشتعال دوہرا چاقو حملہ‘‘ قرار دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں افراد کو تقریباً 20 سیکنڈ کے وقفے سے نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور خاتون سب وے سے باہر آنے والے ایک شخص کے قریب گئی جو اپنی اہلیہ کے ہمراہ سڑک عبور کرنے کے لیے کھڑا تھا۔

ایک عینی شاہد نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ خاتون نے سرخ رنگ کے ’ٹارگٹ‘ شاپنگ بیگ سے دو چاقو نکالے اور پہلے متاثرہ شخص کی جانب بڑھی۔ خاتون نے چاقو لہراتے ہوئے 68 سالہ شخص کے پیٹ کے دائیں جانب وار کیا۔

پولیس کے مطابق حملے کے بعد خاتون سیونتھ ایونیو پر 42 ویں اسٹریٹ کی جانب بڑھی جہاں اس نے دوسری متاثرہ خاتون کو نشانہ بنایا۔

دوسری متاثرہ خاتون کی شناخت 32 سالہ ایرن پیاسیئنٹی کے نام سے ہوئی، جو نیو جرسی کے علاقے چیسٹر کی رہائشی اور بینک آف امریکا کی نائب صدر تھیں۔ انہیں چاقو کا وار لگنے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

بینک آف امریکا کے مطابق ایرن پیاسیئنٹی بینک میں ’بزنس سلیکشن اینڈ کنفلکٹس‘ کے شعبے میں نائب صدر کے عہدے پر فائز تھیں۔ بینک نے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک قابل قدر ساتھی تھیں اور ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی جب کہ ان کے اہل خانہ اور عزیزوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔

دوسرے متاثرہ شخص کی عمر 68 سال ہے، جسے پیٹ کے دائیں جانب چاقو لگا۔ اسے بیلیو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

پولیس کمشنر جیسیکا ٹش کے مطابق حملہ آور خاتون کے آگے بڑھنے کے دوران پولیس اہلکاروں نے اسے چاقو پھینکنے کے لیے کہا اور تقریباً 4 منٹ تک اس سے بات چیت کی۔

پولیس کے مطابق خاتون نے اہلکاروں کو بتایا کہ وہ چاقو نہیں پھینکے گی اور اس کے بجائے دونوں پولیس اہلکاروں کو قتل کرنا پسند کرے گی۔ خاتون نے متعدد مرتبہ اہلکاروں کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

جیسیکا ٹش کے مطابق حملہ آور نے پولیس اہلکاروں کی جانب چاقو لہرائے، جس پر اسے روکنے کے لیے ٹیزر استعمال کیا گیا تاہم ٹیزر غیر مؤثر ثابت ہوا اور خاتون پولیس اہلکاروں کی جانب بڑھتی رہی۔

بعد ازاں پولیس اہلکاروں نے خاتون پر فائرنگ کردی، جس سے وہ زخمی ہوگئی۔ اسے نیویارک سٹی ہیلتھ اینڈ ہاسپٹلز/بیلیو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ پولیس نے حملہ آور خاتون کی شناخت 49 سالہ پامیلا سیسنیروس کے نام سے کی، جو نیویارک کے علاقے کوئنز کی رہائشی تھی۔

پولیس کمشنر جیسیکا ٹش کے مطابق پامیلا سیسنیروس کو اس سے قبل کبھی گرفتار نہیں کیا گیا تھا تاہم نیویارک پولیس کے پاس اس کی ذہنی صحت سے متعلق سابقہ ریکارڈ موجود تھا۔ پولیس کے مطابق 2018 اور 2019 میں اس حوالے سے 2 واقعات ریکارڈ ہوئے تھے تاہم کمشنر نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

پولیس کے مطابق واقعے کے دوران پولیس اہلکاروں کو بھی طبی معائنے کے لیے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے دونوں چاقو برآمد کرلیے ہیں۔ واقعے کی مزید تحقیقات نیویارک پولیس کے فورس انویسٹی گیشن ڈویژن کی جانب سے جاری ہیں۔

واقعے کے وقت ٹائمز اسکوائر میں موجود بوسٹن سے تعلق رکھنے والی سیاح میلیندا پوزون نے بتایا کہ اس نے فائرنگ کی آواز سنی اور سڑک پر بڑی تعداد میں لوگوں کو دیکھا۔ ان کے مطابق صورت حال انتہائی چونکا دینے والی تھی۔

نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے متاثرہ خاندانوں کی زندگیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور شہر ان خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

میئر نے پولیس اہلکاروں کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کو مزید سنگین ہونے سے روکا۔

زوہران ممدانی کے مطابق پولیس اہلکار ہر روز شہر کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی اندرونی تحقیقات کی جائیں گی اور پولیس اہلکاروں کے باڈی کیمروں کی فوٹیج بھی عوام کے لیے جاری کی جائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button