
استنبول(اے ون نیوز)پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے کو باضابطہ طور پر ’مکہ ڈیفنس الائنس‘ کا نام دے دیا ہے۔ ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے استنبول میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کے بعد اس نئے اتحاد کے نام اور دیگر تفصیلات کا اعلان کیا۔
ترکیہ کے شہر استنبول میں پیر کے روز مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ (معاہدۂ مکہ) کے تحت قائم ’اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی‘ کا پہلا اجلاس ہوا جس میں تینوں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور فوجی سربراہان شریک ہوئے۔
ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ خطے کے ممالک کو سکیورٹی، استحکام، خوشحالی اور دیرپا امن کے لیے مل کر فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ’مکہ ڈیفنس الائنس‘ خطے میں سیکیورٹی اور تعاون کے ایک نئے ڈھانچے کو آزمانے کا عمل کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کے بعد خطے میں استحکام پیدا ہوگا اور غیر یقینی صورت حال کم ہوتی نظر آئی گی۔
انہوں نے بتایا کہ ’مکہ ڈیفنس الائنس‘ کا سیکریٹریٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیا گیا ہے جب کہ اس اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل پاکستان سے ہوگا۔
استنبول میں ہونے والا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور ایران کے درمیان ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ حملوں شروع ہوچکے ہیں۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کو 6 ماہ سے زائد عرصے گزر چکا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’مکہ ڈیفنس الائنس‘ کو وسعت دینے کے مقصد کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد دیگر ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت جیسے بین الاقوامی اصولوں پر مبنی ہے۔
ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی اس اتحاد کے دروازے کھلے ہیں۔ ان کے مطابق دیگر ممالک بھی اتحاد میں شامل ہوسکتے ہیں تاہم کسی نئے رکن کی شمولیت کی شرائط، طریقہ کار اور معیار پر امیدوار رکن اور موجودہ رکن ممالک کے درمیان بات چیت ضروری ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ نئے ممالک کی شمولیت کے عمل کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنے پر کام جاری ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے کے رکن تینوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایک مضبوط اور باقاعدہ ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کیا جائے جو خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ استحکام، امن اور خوش حالی کے فروغ میں کردار ادا کرسکے، جب کہ وقت کے ساتھ اتحاد کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے اس وقت اس اتحاد کے ابتدائی مگر مشکل مرحلے کو مکمل کرنے پر کام کر رہے ہیں تاہم مستقبل میں اس اتحاد کا حصہ بنن والے ممالک ایک ایسے مضبوط اور مؤثر نظام کا حصہ بنیں گے جو پہلے سے مربوط اور فعال ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے ترکیہ کو اسٹریٹجک خطرہ قرار دینے سے متعلق سوال پر ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم اور ان کے حامی اسرائیل میں انتخابات کے قریب آنے پر ترکیہ کے خلاف بیانات میں تیزی لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس صورت حال پر ابتدا ہی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔
ہاکان فیدان نے نیتن یاہو کو انسانیت، عالمی برادری اور سیکیورٹی کا دشمن، مجرم اور نسل کشی کا مرتکب شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سمجھنا بڑی غلطی ہوگی کہ یہ صرف ترکیہ کا مسئلہ ہے۔ نیتن یاہو کی سوچ اور ان کے ساتھ کام کرنے والے عناصر صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ عالمی سکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نیتن یاہو کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی پالیسیاں خطے، اسرائیل، یہودی عوام اور پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہیں لہٰذا عالمی برادری کو اس خطرے یعنی نیتن یاہو کے خلاف اقدامات کرنا ہوں گے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سات اگست کو مکہ مکرمہ میں تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اسی معاہدے کے تحت ’اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی‘ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تھا۔
اس مشترکہ دفاعی معاہدے میں یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تمام تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔




