اہم خبریںتازہ ترینکرکٹکھیل

لارڈز ٹیسٹ، انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر سیریز جیت لی

لارڈز(اے ون نیوز)انگلینڈ نے لارڈز ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو 194 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر 3 میچوں کی سیریز 0-2 سے اپنے نام کرلی ہے۔

انگلش ٹیم کی جانب سے 389 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی پوری ٹیم 194 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔

لارڈز میں کھیلے گئے تین میچوں کی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز انگلینڈ نے اپنی دوسری نامکمل اننگز کا آغاز 177 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ سے کیا اور اس کی آخری 3 وکٹیں گزشتہ روز کے اسکور میں صرف 31 رنز کے اضافے سے گر گئیں۔

جس کے بعد انگلینڈ کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 54.2 اوورز میں 208 رنز بناکر آل آوٹ ہوئی۔ انگلینڈ کی دوسری اننگز کی خاص بات ایسیکس کاؤنٹی کے 29 سال کے ڈین لارنس کے 70 گیندوں پر بنائے گئے 54 رنز تھے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ڈین لارنس کی یہ چھٹی نصف سنچری اننگز تھی۔

اس کے علاوہ ہیری بروک 34 رنز بنا کر نمایاں رہے جب کہ ایمیلو گے 31، کپتان جو روٹ 24 اور جارڈن کاکس 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے انگلینڈ کی دوسری اننگز میں محمد عباس سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 57 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں جب کہ محمد علی اور خرم شہزاد کے حصے میں 2،2 وکٹیں آئیں۔

محمد عباس نے انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں بھی 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا، اس طرح انہوں نے میچ میں مجموعی طور پر 9 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ 36 سال کے محمد عباس کی لارڈز میں یہ پانچ وکٹ کی پہلی اور پاکستان کی طرف سے تاریخی لارڈز کے میدان پر کسی بھی پاکستانی بولر کی پانچ وکٹ لینے کی ساتویں پرفارمنس تھی۔

لارڈز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انگلینڈ کی ٹیم 290 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تھی، جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم 110 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی، جس کے باعث انگلش ٹیم کو 180 رنز کی قیمتی برتری حاصل ہوئی تھی۔

انگلینڈ نے پہلی اننگز کی 180 رنز کی برتری کے ساتھ دوسری اننگز میں پاکستان کو ٹیسٹ جیتنے کے لیے 389 رنز کا ہدف دیا۔

پاکستان کی دوسری اننگز میں بھی پہلی اننگز کی طرح اوپنر امام الحق پنڈلی میں تکلیف کے سبب دستیاب نہ تھے اور شان مسعود کے ساتھ آذان اویس اننگز نے اننگز کا آغاز کیا لیکن قومی ٹیم کا اسکور 7 تک پہنچا تو یکے بعد دیگرے 2 وکٹیں گرگئیں۔

پہلی اننگز میں 46 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے والے بلے باز آذان اویس دوسری اننگز میں صرف 6 رنز ہی بناسکے اور اولی روبنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے اور 7 رنز ہی پر عبد اللہ شفیق بھی بغیر کوئی رن بنائے اپنی وکٹ گنوابیٹھے، وہ بھی روبنسن کا شکار بنے۔

اس کے بعد پاکستان کا اسکور 14 رنز تک پہنچا تو کپتان بابر اعظم بھی صرف 6 رنز بناکر جوفرا آرچر کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ بابر اعظم پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔

پاکستان کی 14 رنز پر 3 وکٹیں گرنے کے بعد سعود شکیل اور شان مسعود نے ٹیم کی کمان سنبھالی اور محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا اسکور 111 تک پہنچایا تاہم چوتھے دن کھانے کے وقفے کے بعد بارش کے سبب کچھ دیر کے لیے کھیل روکا اور جب دوبار شروع ہوا تو 111 رنز کے مجموعی اسکور پر پاکستان کو چوتھا نقصان اٹھانا پڑا۔

اولی روبنسن ایک اندر آتی گیند شان مسعود کے پیڈز پر لگی لیکن جنوبی افریقا کے امپائر پالیکر نے بائیں ہاتھ کے بیٹس مین کو ناٹ آؤٹ قرار دیا۔ البتہ ڈی آر ایس میں واضح تھا کہ گیند واضع طور پر شان مسعود کی وکٹوں میں جارہی تھی، جب پیڈ پر لگی اور یوں امپائر کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔

شان مسعود 72 گیندوں پر 26 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور یوں سعود شکیل اور شان مسعود کے درمیان چوتھی وکٹ کے لیے قائم 97 رنز کی شراکت داری ختم ہوئی۔

اس کے بعد چھٹے نمبر پر آنے والے وکٹ کیپر محمد رضوان بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور صرف 9 گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے۔ رضوان صرف ایک رن بناکر اولی روبنسن کی دوسری اننگز میں چوتھی وکٹ بنے۔ رضوان نے وکٹوں میں آتی ایک سیدھی گیند پر گھٹنہ زمین پر رکھ کر زور دار شارٹ مارنے کی کوشش کی اور ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔

پاکستان کا اسکور 146 تک پہنچا تو علی عثمان 16 کے انفرادی اسکور پر جوفرا آرچر کی گیند پر آؤٹ ہوگئے جب کہ دوسرے اینڈ پر سعود شکیل ڈٹے رہے۔

پاکستان کی ساتویں وکٹ 169 رنز پر اس وقت گری جب سعود شکیل جوش ٹونگ کو پل شارٹ کھلیتے ہوئے بدقسمتی سے پانچویں ٹیسٹ سنچری سے محض 3 رن پہلے ہیری بروک کو باؤنڈری لائن پر کیچ تھما بیٹھے۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز نے 122 گیندوں پر 13 چوکو اور 2 چھکوں کی مدد سے 97 رنز کی اننگز کھیلی۔

176 کے اسکور پر خرم شہزاد 9 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے جب کہ 194 رنز پر محمد علی 8 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے جب کہ محمد عباسی 13 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

اس طرح انگلینڈ کے 389 رنز کے جواب میں پاکستان ٹیم کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر ناکام ہوگئی اور دوسری اننگز میں پوری ٹیم 50.5 اوورز میں 194 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ یوں انگلینڈ نے یہ میچ 194 رنز کے بڑے مارجن سے جیت لیا اور ساتھ ہی 3 میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں بھی 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے۔

یاد رہے کہ انگلینڈ نے 16 سال بعد لارڈز کے میدان میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے 24 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ جوش ٹنگ نے 3 اور جوفرا آرچر نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔ 10 روز کے آرام کی ہدایت کے باعث امام الحق کو انجری سے صحت یاب ہونے اور تیسرے ٹیسٹ سے قبل فٹنس حاصل کرنے کے لیے مناسب وقت مل سکتا ہے۔

واضح رہے لیڈز میں کھیلے گے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو اننگ اور 103 رنز سے شکست دی تھی، جس کے بعد انگلش ٹیم کو 3 میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل ہے جب کہ پاکستان ٹیم کو سیریز بچانے کے لیے دوسرے ٹیسٹ میں لازمی فتح یا ڈرا میچ کی ضرورت تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button