
لاہور(اے ون نیوز) پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کےکپتان صاحبزادہ فرحان کا کہنا ہےکہ میرے لیےکپتانی کانٹوں کا بستر ثابت نہیں ہوگی تاہم کھلاڑیوں کو مثبت پیغام دینےکے لیےکپتان کی انفرادی پرفارمنس ضروری ہے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ میرے لیے زیادہ مسئلہ نہیں کیونکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کپتانی کرچکا ہوں، سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی سے مجھے بطورکپتان مدد ملےگی،کپتانی کا پریشر ضرور ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں چھوٹی اور بڑی ٹیمیں نہیں ہوتیں، چھوٹی ٹیموں کا بھی پریشر ہوتا ہے، انٹرنیشنل کرکٹ آسان نہیں ہوتی۔
صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں جونئیر اور سینئرکا کمبی نیشن ہے، ون ڈے سیریز کے لیے بھی قومی کھلاڑیوں کی اچھی پریکٹس ہوجائےگی، خواہش ہے ٹی ٹوئنٹی کے مائنڈ سیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاپ آرڈر بیٹنگ کرے، پاکستان کا ٹاپ آرڈر میری طرح جارحانہ انداز میں ہی بیٹنگ کرتاہے، پاکستان کا ٹاپ آرڈر دائیں اور بائیں ہاتھ پرمشتمل ہوگا۔
قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کےکپتان کا کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی کا کام اسکواڈ تشکیل دیناہے، میں کپتان ہوں مجھے زیادہ اسکواڈ کا معلوم نہیں تھا، مجھے 15 ممبران کا بہترین اسکواڈ دیا گیا ہے، پاکستان میں بیٹنگ کنڈیشنر ملیں گی، 2 اسپنرز 3 فاسٹ بولرز کے ساتھ کھیلیں گے، بابراعظم اور محمدرضوان دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں، دونوں کبھی بھی ٹی ٹوئنٹی میں آسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کریئرکےدوران کانٹوں پر چلنا مجھے آتا ہے، نہیں سوچ رہا کہ مجھے مستقبل میں کپتانی ملےگی یا نہیں، جب تک کپتانی ہے، پاکستان کو میچز جتوانا چاہتا ہوں۔




