
کراچی(اے ون نیوز)کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن میں تین روز قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والے نوجوان زین العابدین کے قتل کا معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق سعودی عرب سے واپس آنے والے نوجوان کو مبینہ طور پر اس کے کزن فیصل نے جھگڑے کے دوران قتل کیا، جس کے بعد لاش بوری میں بند کرکے کچرے میں پھینک دی گئی۔
حکام کے مطابق ملزم نے واردات کو اغوا برائے تاوان کا رنگ دینے کی کوشش کی، جبکہ اس کے ایک ساتھی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق پولیس نے زین العابدین نامی نوجوان کے مبینہ اغوا اور قتل کے معاملے میں اس کے کزن فیصل کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اپنے کزن کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق زین العابدین حال ہی میں سعودی عرب سے واپس آیا تھا، جہاں وہ درزی کا کام کرتا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ زین العابدین اور اس کے کزن فیصل کے درمیان ایک لڑکی کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا، اس دوران مبینہ طور پر فیصل نے طیش میں آکر اس پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
تفتیشی حکام کے مطابق جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت زین العابدین اور فیصل کے علاوہ ایک لڑکی بھی وہاں موجود تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زین العابدین کی جانب سے ویڈیو بنانے سے منع کرنے پر اس کے اور فیصل کے درمیان جھگڑا ہوا، اسی دوران فیصل نے اس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہوسکا۔
ذرائع کے مطابق نوجوان کی موت کے بعد فیصل اور اس کے ایک ساتھی نے لاش بوری میں بند کرکے کچرے میں پھینک دی۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق کہ ملزمان نے واقعے کو اغوا برائے تاوان کا رنگ دینے اور اہل خانہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے سفاکی کی انتہا کرتے ہوئے نوجوان کا ایک ہاتھ کاٹ کر اس کے گھر میں پھینک دیا۔
پولیس نے مذکورہ کٹا ہوا انسانی ہاتھ برآمد کیا ہے، جسے شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی غرض سے بھیج دیا گیا ہے۔
نوجوان کے والد محمد خان کے مطابق زین العابدین 14 اکتوبر کو موٹر سائیکل پر گھر سے نکلا تھا، لیکن کافی دیر گزرنے کے باوجود واپس نہیں آیا تو اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کردی۔ ان کے مطابق جب کافی تلاش کے باوجود بیٹے کا سراغ نہ ملا تو انہوں نے پولیس سے رجوع کیا اور مقدمہ درج کروایا۔
والد کا کہنا تھا کہ ملزمان نے اغوا کار بن کر ان سے رابطہ کرکے بیٹے کی رہائی کے بدلے سات لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا۔ ان کے مطابق وہ رقم لے کر طے شدہ مقام پر پہنچے، لیکن وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں مبینہ اغوا کار ان کے بیٹے کی چپل اور موبائل فون گھر میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے اور اسے قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔
تفتیشی حکام کے مطابق پولیس ملزم فیصل کی گرفتاری کے بعد اس کی نشاندہی پر نوجوان کی لاش تک پہنچی۔ جس کے بعد اب اس کے مبینہ ساتھی کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔
حکام نے مبینہ طور پر اس واقعے کی وجہ بننے والی لڑکی کی تلاش بھی شروع کردی ہے تاکہ جھگڑے کے حالات اور قتل کے محرکات سے متعلق مزید تفصیلات معلوم کی جا سکیں۔ پولیس کے مطابق زین العابدین کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ اسٹیل ٹاؤن میں درج ہے، جبکہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔




