
تل ابیب(اے ون نیوز)اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے، تاہم کسی بھی سیاسی بلاک کو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
تقریباً 86 فیصد نتائج کے مطابق وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے بلاک کو 53، اپوزیشن اتحاد کو 48 جب کہ عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملتی دکھائی دے ہیں۔ اسی دوران نیتن یاہو کی جماعت ’لیکوڈ‘ نے عرب جماعتوں پر مبینہ انتخابی دھاندلی اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے الزامات عائد کرنا شروع کردیے ہیں۔
عرب اتحاد نے نیتن یاہو کو حکومت سے باہر رکھنے کے لیے اپوزیشن اتحاد کو نئی حکومت کا حصہ بنے بغیر حمایت کی بھی پیشکش کردی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے عرب-اسرائیلی نمائندگی رکھنے والی جماعتوں پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور غیر قانونی طریقوں سے ووٹروں کو متحرک کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
نیتن یاہو نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی جماعت کا بیان شیئر کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عرب جماعتوں نے مبینہ طور پر ممنوعہ سافٹ ویئر استعمال کیا اور رشوت، دھمکیوں، تشدد اور جعل سازی جیسے طریقوں کا سہارا لیا۔
لیکوڈ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے الزامات سے متعلق شواہد اسرائیلی داخلی سکیورٹی ادارے شن بیت اور مرکزی الیکشن کمیٹی کو پیش کردیے ہیں۔
اس کے برعکس، انتخابی حکام کے مطابق ووٹنگ کے دوران تمام پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی شفافیت کی نگرانی کے انتظامات موجود تھے۔
مرکزی الیکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل کے دوران مشتبہ واقعات کی جانچ کے لیے موصول ہونے والی تقریباً 10 ہزار رپورٹس کو جائزہ لینے کے بعد نمٹا دیا گیا ہے۔ تاہم، بدھ کی شام کمیٹی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ اسے لیکوڈ کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی مہم کے دوران بھی بارہا عرب سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
انتخابات کے روز روز عرب جماعتوں کے نمایاں رہنماؤں نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان رہنماؤں کے مطابق اس طرزِ عمل کا مقصد دائیں بازو کے ووٹرز کو متحرک کرنا اور انتخابی امکانات بہتر بنانا تھا۔
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے جب عرب جماعتیں پارلیمان میں نمایاں نشستیں حاصل کرنے کے بعد حکومت سازی کے ممکنہ عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق، انتخابات میں تقریباً 73 لاکھ اہل ووٹروں میں سے لگ بھگ 57 لاکھ افراد نے ووٹ ڈالا۔ اس طرح ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو 1999 کے بعد سب سے بلند شرح ہے۔
زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کے باوجود حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت کسی ایک بلاک کو حاصل نہیں ہو سکی۔ حتمی نتائج کے بعد نشستوں کی تقسیم واضح اور حکومت سازی کے لیے باقاعدہ کوششیں شروع ہوجائیں گی۔
اب تک کے نتائج کے مطابق دائیں بازو کی انتہاپسند جماعتوں پر مشتمل نیتن یاہو کے اتحادی بلاک کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جو 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں 15 نشستیں کم ہیں۔
اس کے باوجود نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی سب سے بڑی انفرادی جماعت بن کر سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہے اور موجودہ تخمینوں کے مطابق نیتن یاہو کا بلاک اس ہدف سے 8 نشستیں پیچھے ہے۔
نیتن یاہو کے اہم حریف اور سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
آئزن کوٹ نے انتخابی نتائج کو تبدیلی کے حق میں عوامی فیصلے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے۔ تاہم، حکومت بنانے کے لیے انہیں دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔
اس سلسلے میں ایک ممکنہ راستہ عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہے، لیکن اسرائیلی سیاست میں بیشتر یہودی جماعتوں کی جانب سے عرب جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد بنانے پر تاریخی طور پر تحفظات رہے ہیں۔ اس لیے اپوزیشن کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کا معاملہ محض نشستوں کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ سیاسی اتحاد قائم کرنے کی صلاحیت پر بھی منحصر ہوگا۔
اسرائیل کے عرب شہریوں کی نمائندگی کرنے والی دو جماعتوں ’رعام‘ اور ’جوائنٹ لسٹ‘ کو مجموعی طور پر تقریباً 19 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ یہ تعداد اسرائیلی پارلیمنٹ میں عرب جماعتوں کی اب تک کی سب سے بڑی نمائندگی ہوگی۔
اسرائیل کے اہل ووٹرز میں عرب شہریوں کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے، تاہم ماضی میں ان کا ووٹر ٹرن آؤٹ یہودی اسرائیلی شہریوں کے مقابلے میں عموماً کم رہا ہے۔ اس بار عرب ووٹروں کی بڑی تعداد نے انتخابی عمل میں حصہ لیا، جس سے عرب جماعتوں کی پارلیمانی پوزیشن اہم ہو گئی ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسرائیل میں نشستوں کا دارومدار کُل ووٹوں کی گنتی پر ہوتا ہے۔ اب تک تقریباً 86 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی ہے، لہٰذا نشستوں کی تعداد میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔
حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ کون سا سیاسی بلاک حکومت بنانے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر نیتن یاہو یا آئزن کوٹ کے بلاک کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ تاہم عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا اور ان کے ساتھ باضابطہ حکومتی اتحاد قائم کرنا دو الگ معاملات ہیں، کیونکہ اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے اپنے تحفظات ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران آئزن کوٹ بھی عرب جماعتوں کو براہِ راست حکومتی اتحاد میں شامل کرنے کے معاملے پر محتاط مؤقف رکھتے تھے۔
رعام کے سربراہ منصور عباس پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ ان کی جماعت نیتن یاہو مخالف بلاک کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ایک قابلِ عمل اور مستحکم حکومتی اتحاد تشکیل پانے کے امکانات موجود ہوں۔
عرب-اسرائیلی جماعتوں کے اتحاد ’جوائنٹ لسٹ‘ کے سربراہ یوسف جبارین نے کہا ہے کہ ’اسرائیلی عوام نے نئی قیادت کے حق میں ووٹ دیا ہے اور جو بھی نیتن یاہو کی حکومت کا حقیقی متبادل بننا چاہتا ہے، اسے عرب جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔‘
انہوں نے یہ پیشکش کی ہے کہ عرب اتحاد نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کے لیے نئی مخلوط حکومت میں شامل ہوئے بغیر اس کی حمایت کر سکتا ہے۔
اس اتحاد میں شامل بَلد پارٹی کے سربراہ سامی ابو شہادہ نے بھی نیتن یاہو کی پالیسیوں کو نسل پرستانہ اور پُرتشدد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب جماعتوں کو حکومتی اتحاد سے باہر رکھنے کا رویہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
انہوں نے اپوزیشن اتحاد کی جانب سے عرب جماعتوں سے مذاکرات نہ کرنے کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار ملک کی تقریباً 20 فیصد آبادی کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے سے انکار کرتا ہے تو یہ نسل پرستی نہیں تو اور کیا ہے؟‘
گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کے سامنے اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کریں، نیتن یاہو کو حکومت کے لیے جوڑ توڑ کرنے کا موقع دیں یا پھر دوبارہ الیکشن کے لیے تیاری کریں۔
رپورٹس کے مطابق اپوزیشن اتحاد میں شامل بعض جماعتیں نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے منصور عباس کی ’رعام‘ یا عرب جماعتوں کے اتحاد ’جوائنٹ لسٹ‘ سے مذاکرات پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق نیتن یاہو اقتدار کے حصول کے لیے عرب جماعتوں سے اتحاد کے بجائے اپوزیشن بلاک میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش بھی کرسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی پوری کوشش ہے کہ وہ آئزن کوٹ کے اتحاد میں شامل انتہاپسند صیہونی اوگدور لیبرمین یا نفتالی بینیٹ جیسے دائیں بازو کے رہنماؤں کو ’عرب مخالف کارڈ‘ استعمال کر کے اپنے ساتھ ملا سکیں۔
اسرائیلی قانون کے مطابق ووٹوں کی حتمی گنتی مکمل ہونے کے صدر آئزک ہرزوگ مختلف منتخب جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی جس کے پاس قابلِ عمل حکومتی اتحاد تشکیل دینے کے بہتر امکانات ہوں گے۔
حکومت بنانے کے لیے نامزد رہنما کو چھ ہفتے تک کا وقت مل سکتا ہے تاکہ وہ کم از کم 61 نشستوں کی حمایت حاصل کر سکے۔ اگر وہ ناکام رہتا ہے تو دوسرے امیدوار کو موقع دیا جا سکتا ہے۔
اگر دونوں امیدوار حکومت بنانے میں ناکام رہیں اور کنیسٹ کسی متبادل امیدوار پر متفق نہ ہو سکے تو اسرائیل میں دوبارہ عام انتخابات کرانے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔ جب کہ حتمی نتائج کے اعلان تک نیتن یاہو نگران وزیراعظم کے طور پر فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے تمام سیاسی جماعتیں پر زور دیا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کریں تاکہ ملک کو ایک بار پھر انتخابات کی طرف جانے سے بچایا جا سکے۔




