اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں گرما گرمی، بعض ارکان ناراض، اجلاس چھوڑ کر چلے گئے

اسلام آباد(اے ون نیوز)اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران گرما گرمی دیکھنے میں آئی، بعض ارکان اجلاس چھوڑ کر چلے گئے جب کہ اجلاس میں پارٹی قیادت، خیبرپختونخوا کی صورت حال، سیاسی گرفتاریوں اور آئینی معاملات سے متعلق اہم قرارداد بھی منظور کرلی گئی۔

منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت ہونے والا مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا 7 گھنٹے طویل اجلاس ختم ہوگیا، اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس میں 70 سے زائد ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر پارٹی کے کردار سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران گرما گرمی دیکھنے میں آئی، علی امین گنڈاپور کے بھائی فیصل امین خان شدید غصے میں کمیٹی روم سے باہر نکل گئے، وہ جاتے ہوئے زور سے دروازہ پٹخ کر روانہ ہوئے۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی خواجہ شیراز بھی کمیٹی روم سے چلے گئے، اس دوران دیگر ارکان انہیں آوازیں دیتے رہے تاہم خواجہ شیراز نے کہا کہ فون سن کر آتا ہوں لیکن وہ واپس نہ آئے۔

مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس اہم قرارداد منظور کی گئی، قرارداد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ، وکلا اور پارٹی کے مجاز نمائندوں کی ملاقاتیں بحال کرنے، آزادانہ طبی معائنہ کرانے اور شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ قرارداد کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو بھی ان کے علاج کے عمل میں شامل کیا جائے۔

پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آئین اور صوبائی خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔

قرارداد میں ایمرجنسی اور گورنر راج فوری ختم کرنے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

قرارداد میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر خان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے غیر منتخب مشاورتی کونسل اور منتخب حکومت کے اختیارات محدود کرنے کے انتظامات مسترد کردیے۔

مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی انتقام یا منتخب حکومت کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا جب کہ قرارداد میں دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک مذمت کرتے ہوئے مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کو تسلیم کیا گیا۔

پی ٹی آئی نے امن کی بحالی کے لیے آئین، قانون اور صوبائی حقوق کے مطابق مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

قرارداد میں گرفتار ارکان پارلیمنٹ کی رہائی، لاپتہ افراد کے مقام اور خیریت سے آگاہ کرنے اور زیر حراست ارکان کو اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کے ساتھ پارلیمانی کارروائی میں شرکت کا حق دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

پی ٹی آئی نے عمر ایوب، شبلی فراز اور دیگر رہنماؤں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات اور سزاؤں کی مذمت کرتے ہوئے نااہلیاں ختم کرنے اور متاثرہ ارکان کی پارلیمانی نشستیں بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

قرارداد میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ سمیت سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوششیں قومی اتحاد کو کمزور کرتی ہیں۔

قرارداد میں 8 فروری 2024 کے انتخابی مینڈیٹ کی بحالی یا ملک میں نئے شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

پی ٹی آئی نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم واپس لینے، عدلیہ کی آزادی، اظہار رائے اور پرامن احتجاج کے بنیادی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات، عوام کو معاشی ریلیف دینے اور روزگار و کاروبار کے مواقع بحال کرنے پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی نامزد کردہ پارٹی اور پارلیمانی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت پر اعتماد کا اظہار بھی شامل ہے۔

قرارداد کے مطابق پولیٹیکل کمیٹی، کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو تسلیم کیا جائے گا جب کہ پارٹی فیصلوں میں قومی اور صوبائی پارلیمانی پارٹیوں کی تجاویز کو مناسب اہمیت دی جائے گی۔

پارٹی نے واضح کیا کہ حتمی فیصلوں کا اختیار بانی پی ٹی آئی اور ان کی جانب سے بااختیار بنائی گئی قیادت کے پاس رہے گا۔ اجلاس میں پارٹی کے اندرونی اختلافات عوامی بیانات کے بجائے متعلقہ فورمز پر حل کرنے اور آئینی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمانی پارٹی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھی فعال کردار ادا کیا جائے گا۔

بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق تفصیلی مشاورت ہوئی ہے اور طے شدہ لائحہ عمل اپوزیشن لیڈران کے سامنے رکھا جائے گا۔ مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کی قیادت اپوزیشن لیڈران کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مکمل حکمت عملی تشکیل دے دی گئی ہے۔

اجلاس کے بعد پی ٹی آئی چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے بھی میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا کہ آج کی میٹنگ انتہائی غیر معمولی تھی، تمام اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ نے کھل کر تمام قومی معاملات پر گفتگو کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ گورنر راج ، ایمرجنسی اور پارلیمانی معمالات پر کھل کر گفتگو ہوئی، یہ پارلیمانی پارٹی کا پہلا سیشن تھا جب کہ مزید اجلاس بھی ہوں گے، جو فیصلے ہوئے ہیں وہ اپوزیشن لیڈران کے سامنے رکھیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button