اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

شیر اقتدار کا بھوکا ہے،جلد یہ میرے پاؤں پکڑیں گے ، بلاول

باغ ( اے ون نیوز )پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا شروع سے یہی مؤقف رہا ہے کہ مسائل کا حل مذاکرات، مفاہمت اور سچائی پر مبنی احتساب میں ہے، نہ کہ تصادم میں۔

آزاد کشمیر اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد بھی اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جس میں سچ اور مفاہمتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ حقائق سامنے آئیں، انصاف ہو اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہو۔ن لیگ نے ابھی گلا پکڑا ہوا ہے، وہ وقت دور نہیں جب یہ میرے پاؤں پکڑیں گے، وہ وقت جلد آنے والا ہے.

ہم نے کشمیر کی تاریخ میں شاید کبھی اتنا کٹھن اور آزمائش بھرا وقت نہیں دیکھا، جتنے سنگین حالات کا آج کشمیر کو سامنا ہے۔ ان حالات کا سب سے زیادہ بوجھ میرے پونچھ کے عوام اٹھا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نہ حکومت سے تعلق ہے اور نہ احتجاج کرنے والوں سے؛ وہ صرف امن، عزت اور سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ آپ کن مشکلات اور تکالیف سے گزر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلے دن سے یہی واضح مؤقف ہے کہ ہر مسئلے کا پائیدار حل صرف اور صرف مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ہم نے کشمیر کی تاریخ میں شاید کبھی اتنا کٹھن اور آزمائش بھرا وقت نہیں دیکھا، جتنے سنگین حالات کا آج کشمیر کو سامنا ہے۔ ان حالات کا سب سے زیادہ بوجھ میرے پونچھ کے عوام اٹھا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نہ حکومت سے تعلق ہے اور نہ احتجاج کرنے والوں سے؛ وہ صرف امن، عزت اور سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ (ن) لیگ کو غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے جا رہے ہیں، اصل میں ان کی اسلام آباد والی حکومت بھی خطرے میں ہے، ان کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، یہ گنتی پیپلز پارٹی نے شروع نہیں کی، ان کے اپنے لوگوں نے شروع کروائی۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ آپ کن مشکلات اور تکالیف سے گزر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلے دن سے یہی واضح مؤقف ہے کہ ہر مسئلے کا پائیدار حل صرف اور صرف مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کل بھی عوام کے ساتھ کھڑی تھی، آج بھی عوام کے ساتھ کھڑی ہے، اور آئندہ بھی عوام کے شانہ بشانہ رہے گی۔ ہم ہمیشہ اپنے منشور، اپنے نظریے اور عوام کی خدمت کے جذبے کے ساتھ لوگوں کے پاس جاتے ہیں۔

ان انتخابات میں بھی میں ایک نیا منشور لے کر آپ کے سامنے آیا ہوں؛ ایسا منشور جو کشمیر کے عوام کے تحفظات کا ازالہ کرے، ان کے مسائل کا حل پیش کرے اور انہیں ان کے بنیادی حقوق دلائے۔

میری خواہش ہے کہ وادیٔ کشمیر کو حقیقی معنوں میں ‘جنتِ بینظیر’ بنایا جائے۔ مگر صرف خوبصورت پہاڑ، سرسبز وادیاں اور بہتے دریا کسی خطے کو جنت نہیں بنا سکتے۔ اگر عوام اپنے حقوق سے محروم ہوں، اگر ہمارے دریا بہتے رہیں لیکن یہاں کے لوگوں کو پانی اور بجلی نہ ملے، اگر عوام کے پاس حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار نہ ہو، تو ایسی خوبصورتی کا کوئی فائدہ نہیں۔

میرا منشور اور میری جدوجہد یہی ہے کہ کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار دلایا جائے، تاکہ وادیٔ کشمیر واقعی جنتِ بینظیر بن سکے۔

نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ جس چیز کا عوام مطالبہ کریں گے، پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ خواہ بات کشمیر کی ہو، گلگت بلتستان کی، پنجاب کی یا ملک کے کسی بھی حصے کی، فیصلہ عوام کا ہوگا اور پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے فیصلے کا احترام کرے گی۔

البتہ یہ توقع نہ رکھی جائے کہ ہم عوام کی خواہشات کے برخلاف کوئی مؤقف اختیار کریں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے نہ کبھی تاریخ میں عوام کے خلاف سیاست کی ہے، نہ آج کرے گی، اور نہ ہی آئندہ کبھی عوام کی رائے کے خلاف کھڑی ہوگی۔

شیر اقتدار کا بھوکا ہے، اسی لیے ہر انتخاب میں عوامی مینڈیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن کشمیر کے باشعور عوام جانتے ہیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام کا ووٹ ہے، نہ کہ دھونس، دباؤ یا دھاندلی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف شروع سے واضح رہا ہے کہ عوام کو آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پرامن ماحول میں اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ جمہوریت کی اصل روح عوام کے فیصلے کا احترام ہے، نہ کہ اقتدار کے لیے ہر حد پار کرنا۔

25 اگست کو باغ، پونچھ اور حویلی کے عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے ثابت کریں گے کہ فیصلہ عوام کرتے ہیں، اقتدار کے بھوکے نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button