
اسلام آباد(اے ون نیوز)سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جو ہوا وہ پارٹ ون ہے، ابھی پارٹ ٹو اور تھری آنا باقی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 13سال رہنے والی حکومت نے صوبے کو صرف تباہی دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ناکامی کا کوئی چانس ہی نہیں، اب بہتر کابینہ آئی ہے، اگریہ بھی اچھا پرفارم نہ کرسکی تو ان سے بھی بہتر لوگ آئیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
فیصل واوڈا نے لانگ مارچ اور گرفتاریوں کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے رہنما خود گرفتار ہونا چاہتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس دوران یہ سب کچھ ہورہا تھا تو صوبائی کابینہ کے 8 ارکان اسلام آباد میں ان کے پاس موجود تھے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ ہمیشہ معلومات کی بنیاد پر بات کرتے ہیں اور اسی لیے ان کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 27 تاریخ کو مجھ سے لانگ مارچ کے حوالے سے پوچھا گیا کہ کیا ہونے جارہا ہے اور 28 تاریخ کو وہی ہوا جس کا میں پہلے ہی بتا چکا تھا۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ 400 افراد کو لے کر طوفان برپا کرنے جارہے تھے۔ فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کے دوران انگریزی کا محاورہ ’دی شو اِز اوور‘ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اب ہے اور نہ ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عوام اب نعروں کے نام پر ذلیل و خوار نہیں ہوں گے بلکہ اس کا ساتھ دیں گے جو ان کے مسائل حل کرے گا۔
عمران خان کا تذکرہ کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں نے مجھے سیاست سکھائی جس پر میں ان کا مشکورہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کو اس دلدل سے بچانا چاہتا تھا جب کہ پارٹی کے کچھ لوگ ان کی مقبولیت کا غلط فائدہ اٹھاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمران خان کو یاد رکھا لیکن وہ مجھے بھول گئے اور پیری فقیری میں لگ گئے۔
سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ گورنرراج کوئی غیرآئینی اقدام نہیں، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کی نئی کابینہ کے بارے میں مثبت توقعات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اب اچھی کابینہ آئی ہے اور اگلے 180 دن انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی کابینہ کی کامیابی کے امکانات 99 فیصد ہیں اور ناکامی کی گنجائش ایک فیصد بھی نہیں ہے۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ اگر موجودہ کابینہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی تو اس سے بہتر لوگوں کو ذمہ داریاں دی جائیں گی۔
بلوچستان حکومت کے حوالے انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہا کہ اب پورا سسٹم ری بوٹ ہوگا، جب ری بوٹ ہوتا ہے تو اس میں ڈیلیٹ بھی ہوتا ہے، یہ ڈیٹا ڈیلٰٹ ہونا اب ضروری ہوگیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اور معاشی دہشت گردی میں ملوث عناصر بھی اب گرفت میں آئیں گے۔




