
شیخوپورہ (اے ون نیوز)شیخوپورہ میں 12 سالہ گھریلو ملازمہ زینب مبینہ تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئی۔ اہل خانہ کے الزام کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے رفاقت نامی شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔
شیخوپورہ میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 12 سالہ زینب مبینہ تشدد کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ بچی کو گھر کی مالکن نے ڈنڈوں اور سوٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔
پولیس کے مطابق واقعہ شیخوپورہ کے خالد روڈ پر پیش آیا، جہاں زینب رفاقت نامی شخص کے گھر میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بچی گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس گھر میں ملازمت کررہی تھی۔
اہل خانہ نے الزام لگایا کہ گھر کی مالکن نے زینب پر ڈنڈوں اور سوٹوں سے تشدد کیا، جس کے باعث وہ جاں بحق ہوگئی۔ واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے رفاقت نامی شخص کو گرفتار کرلیا۔
زینب کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی گئی ہے تاکہ اس کی موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
شیخوپورہ میں 9 سالہ گھریلوملازمہ پر تشدد، بچی کا بازو ٹوٹ گیا
دوسری جانب شیخوپورہ میں ہی گھریلو ملازمہ پر تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں گجر ٹاؤن میں 9 سالہ گھریلو ملازمہ ایمان فاطمہ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ تشدد کے واقعے میں پولیس ملازمین میاں بیوی وارث اور زنیرہ کو نامزد کیا گیا ہے۔
متاثرہ بچی کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان نے چوری کا الزام لگا کر بچی کو ڈنڈوں اور سوٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے اس کا بازو ٹوٹ گیا جب کہ ملزمان پر بچی کو گرم سریا لگانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
متاثرہ بچی ایمان فاطمہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ملزمان اسے مسلسل مارتے رہے اور وہ منت سماجت کرتی رہی لیکن انہوں نے رحم نہیں کیا۔ بچی کے مطابق ہمسائیوں نے مداخلت کرکے اسے ملزمان سے چھڑوایا اور پولیس کو اطلاع دی۔ ایمان فاطمہ کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار اسے اسپتال چھوڑ کر چلے گئے۔
بچی کی والدہ نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے دھمکیاں دے کر اس کے والد سے اسٹامپ پیپر پر زبردستی انگوٹھے بھی لگوائے۔
متاثرہ بچی کے والدین کی شکایت پر پولیس نے پولیس ملازمین میاں بیوی وارث اور زنیرہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم مقدمے میں بازو ٹوٹنے سے متعلق قانونی دفعات شامل نہیں کی گئیں۔ والدین نے مزید الزام لگایا کہ ملزمان انہیں مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔
متاثرہ بچی کے والدین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔




