اہم خبریںتازہ ترینسندھ

میر رضا کے بزنس پارٹنر کی عبوری ضمانت منظور؛ پولیس گم شدہ موبائل سم کیسے حاصل کرے گی؟

کراچی(اے ون نیوز)کراچی کی عدالت نے نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کے کیس میں ان کے بزنس پارٹنر کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔

میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد نے گرفتاری کے خدشے کے پیشِ نظر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کی عدالت میں عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

ہفتے کو سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے میر رضا کے ساتھ تجارتی تعلقات تھے، جہاں ایک دکان محمد احمد اور دوسری میر رضا چلاتا تھا۔

خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے اور انہیں تھانے بلانے کے بجائے کرائم سین پر بلایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سابقہ تفتیشی افسر نے انہیں ہراساں کیا اور اگر پولیس کسی کے گھر پر اس طرح آئے گی تو مسائل پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں لیکن موکل کو بےجا گرفتاری کا خدشہ ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے ہراساں کیا اور ساتھ ہی ملزم کے وکیل سے سوال کیا کہ اگر آپ ملزم نہیں تھے تو پھر ضمانت کیوں حاصل کی، آپ سوچ لیں کہ اس ضمانت کی درخواست کو چلانا چاہتے ہیں یا واپس لینا چاہتے ہیں۔

اس پر وکیل جبران ناصر نے عدالت کے سامنے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کسی کو ہراساں نہیں کیا بلکہ محض تفتیش کے لیے بلایا تھا، اب تک 35 گواہان کو بلایا جا چکا ہے جن سے تفتیش میں گھنٹوں کا وقت لگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے موکل کا قتل ہوا ہے اور آج ان کے بزنس پارٹنر کو ضمانت دی گئی ہے، لگتا ہے اس کیس سے جڑے باقی لوگ بھی ضمانتیں لیں گے۔

عدالت نے ملزم کو ہدایت کی کہ احمد آپ ضمانت پر ہوں یا نہ ہوں، آپ تفتیش جوائن کرنے کے پابند ہیں اور جب تک تفتیش جاری ہے آپ شہر سے باہر نہیں جا سکتے۔

اس پر ملزم محمد احمد نے عدالت میں اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی پولیس بلاتی ہے میں تھانے جاتا ہوں۔

سٹی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت چوبیس اگست تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر فیصلہ کریں کہ ضمانت کی درخواست واپس لیں گے یا اسے آگے چلائیں گے۔

سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ کیس کی تفتیش کو مزید آگے بڑھانے اور اہم شواہد کے حصول کے لیے میر رضا کے استعمال میں رہنے والی موبائل سم کی شدید ضرورت ہے۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ پولیس سم کس طریقے سے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، کیونکہ قانونی طور پر میر رضا کے نام پر سم کا اجراء یا بحالی ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے۔

عدالت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے تفتیشی افسر نے بتایا کہ وہ میر رضا کی والدہ کے بائیو میٹرک کی تصدیق اور ان کے قومی شناختی کارڈ کی مدد سے سم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ موبائل ڈیٹا اور رابطوں کی تفصیلات کو مکمل طور پر یکجا کیا جا سکے۔

تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ میڈیکل رپورٹ اور تفتیشی رپورٹ کی تیاری کے لیے پولیس کو مزید وقت دیا جائے اور مہلت فراہم کی جائے تاکہ وہ تمام تر ضروری کارروائی اور دستاویزات مکمل کر کے آئندہ سماعت پر جامع رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کر سکیں۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے تفتیشی افسر ڈی ایس پی کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے پولیس کو رپورٹ تیار کرنے کے لیے وقت دے دیا اور کیس کی مزید سماعت 24 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی۔

عدالت نے تفتیشی حکام کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ آئندہ سماعت پر کیس کی مکمل پروگریس رپورٹ کے ساتھ ساتھ میڈیکل ایگزامن رپورٹ بھی لازمی طور پر پیش کی جائے۔

سماعت کے بعد سٹی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے بتایا کہ میر رضا جن جن لوگوں سے ملا تھا، ان تمام کی معلومات اور تفصیلات پولیس کو فراہم کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس ان تمام افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ نئے ڈی ایس پی تفتیشی افسر نے ابھی کام شروع کیا ہے اور ہم کسی پر یہ دباؤ نہیں ڈال رہے کہ کس کو گرفتار کیا جائے یا نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ میر رضا کے والد نے بھی کیس کی شفاف تفتیش کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ پورا شہر یہ سوال کر رہا ہے کہ قاتل کو کیوں بچایا جا رہا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی تفتیشی ٹیم شفاف انداز میں کام کرے گی اور کیس کے لیے آواز اٹھانے والے کراچی کے نوجوانوں اور احتجاج کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان اٹھائیس جولائی کو پی ای سی ایچ ایس کے علاقے سے لاپتہ ہوا تھا، جب وہ صبح چار بج کر نو منٹ پر ایک آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے نکلا تھا۔

دو دن بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کے باہر سے انتہائی خراب حالت میں ملی جسے گولی لگی ہوئی تھی اور موت سے ایک دن پہلے ہی ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے گئے تھے۔

میر رضا کے والد نے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیٹے میر رضا کا تیس اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button