
لاہور(اے ون نیوز)لاہور میں فائرنگ کے واقعے میں شہید سب انسپکٹر سمیت 3 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ میں ادا کردی گئی ہے جب کہ پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے دہشت گرد باپ بیٹا شیخوپورہ کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں۔
دوسری جانب پولیس نے دونوں واقعات کے مقدمات درج کرلیے ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں ملوث تیسرے ملزم کی شناخت 32 سالہ طارق کے نام سے ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان کو رنج تھا کہ ان کا بھائی سی سی ڈی نے مبینہ مقابلے میں ہلاک کیا تھا۔
گزشتہ روز لاہور میں بادامی باغ اور نواں کوٹ کے علاقوں میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے سب انسپکٹر عدیل عاشق، ہیڈ کانسٹیبل اسد اور کانسٹیبل حارث سلیم کی نماز جنازہ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں ادا کردی گئی جب کہ نماز جنازہ کے بعد تینوں شہید پولیس اہلکاروں کی میتیں مکمل پولیس پروٹوکول کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں میں تدفین کے لیے روانہ کردی گئیں۔
نماز جنازہ میں کور کمانڈر لاہور، صوبائی وزیر خزانہ، چیف سیکریٹری و سیکریٹری داخلہ پنجاب، آئی جی پنجاب،سی سی پی او لاہور، ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز سمیت عسکری، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہدا کے جسد خاکی کو سلامی پیش کی۔ کور کمانڈر لاہور نے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کی جانب سے شہدا کے جسد خاکی پر پھولوں کی چادر چڑھائی جب کہ سول و عسکری قیادت نے بھی شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور فاتحہ خوانی کی۔
کور کمانڈر لاہور، آئی جی پنجاب اور دیگر پولیس و عسکری حکام نے شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر کہا گیا کہ شہدا کی فیملیز کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی دیکھ بھال اور ویلفیئر کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔
پولیس ترجمان کے مطابق تینوں اہلکار گزشتہ شب ملزمان کی فائرنگ سے شہید ہوئے، ریحان بٹ کی جانب سے سب انسپکٹر عدیل عاشق کو مبینہ طور پر فون پر دھمکیاں بھی دی جاتی رہی تھیں اور اس کے خلاف عدیل عاشق کی مدعیت میں مقدمہ درج تھا۔
پولیس کے مطابق ریحان بٹ کا بھائی فیضان بٹ 2024 میں سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہوا تھا، جس کے بعد ریحان بٹ پولیس سے رنجش رکھتا تھا۔
دوسری جانب 13 اگست کی رات بادامی باغ اور نواں کوٹ کے علاقے میں فائرنگ کرکے 3 پولیس اہلکاروں کو شہید اور دیگر اہلکاروں کو زخمی کرنے کے بعد فرار ہونے والے دہشت گرد باپ بیٹا شیخوپورہ کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کی شناخت ریحان بٹ اور فیاض بٹ کے نام سے ہوئی ہے۔
شیخوپورہ میں مبینہ پولیس مقابلے کا مقدمہ تھانہ مریدکے میں درج کرلیا گیا ہے، مقدمہ ایس ایچ او تھانہ صدر مریدکے انسپکٹر عامر افضل کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، بارودی مواد رکھنے، قتل اور اقدام قتل سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق تین مسلح ملزمان عبدالحفیظ نامی شہری کے گھر میں داخل ہوئے اور اس کی اہلیہ اور تین بچوں کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے مکان کو گھیرے میں لے لیا اور ملزمان کو ہتھیار ڈالنے اور سرنڈر کرنے کا اعلان کیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کردی، جس پر پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جب کہ دوطرفہ فائرنگ کے دوران پولیس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
ایف آئی آر کے مطابق فائرنگ رکنے کے بعد گھر کے صحن سے دو لاشیں ملیں، جن کے قریب اسلحہ بھی موجود تھا۔
ادھر لاہور میں 3 پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث تیسرے ملزم کی شناخت بھی ہوگئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق 32 سالہ طارق کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے اور اس کا ریحان بٹ کے ساتھ رابطہ تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق طارق کچھ عرصے سے ریحان بٹ کے گھر رہائش پذیر تھا اور دونوں کے درمیان ملاقاتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق طارق کا ڈیٹا ہوٹل آئی سے حاصل کیا گیا جب کہ اس کے خلاف تھانہ راوی روڈ میں دفعہ 13/20/65 کے تحت مقدمہ بھی درج ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق طارق راوی ریان نالے کے قریب ریحان بٹ اور اس کے والد فیاض بٹ سے الگ ہوگیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق تیسرے ملزم طارق کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر تلاش جاری ہے جب کہ واقعے میں ملوث ملزمان، ان کے جرائم اور دیگر ممکنہ ساتھیوں سے متعلق مزید تفتیش بھی کی جارہی ہے۔
ادھر بادامی باغ اور نواں کوٹ یتیم خانہ چوک میں فائرنگ کے واقعے کی ایک اور کلوز سرکٹ کیمرہ فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس میں تینوں ملزمان کو فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ رات تقریباً 8 بجے پیش آیا، جہاں سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں پر تین مسلح ملزمان نے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار جاں بحق جب کہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ملزمان سیکیورٹی گارڈ سے اسلحہ اور سرکاری گاڑی چھین کر فرار ہوگئے۔
اس واقعے کا مقدمہ بھی سب انسپکٹر محسن شہزاد کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے، جس میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔




